تمل ناڈو کی سیاست میں ایک بڑا سیاسی رخ سامنے آ رہا ہے۔ ریاست کی اہم اپوزیشن جماعت آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کو بڑا دھچکا لگنے والا ہے، کیونکہ پارٹی کے کئی سینئر رہنما اور سابق عوامی نمائندے اداکار سے سیاست دان بننے والے وجے کی جماعت تملگا ویٹری کڑگم (ٹی وی کے) میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ریاست کی سیاست میں نئے اتحاد اور طاقت کے توازن کو جنم دے سکتی ہے۔
کون کون ٹی وی کے میں شامل ہوگا؟
ذرائع کے مطابق اے آئی اے ڈی ایم کے کے کم از کم پانچ سابق وزراء، 15 سابق ارکانِ اسمبلی اور سیکڑوں کارکن 2 جولائی کو مہابلی پورم کے ایک ریزورٹ میں منعقد ہونے والے پروگرام کے دوران باضابطہ طور پر ٹی وی کے میں شامل ہوں گے۔ ٹی وی کے میں شامل ہونے والے اہم رہنماؤں میں سابق وزیر سی۔ وجے بھاسکر، ایم۔ آر۔ وجے بھاسکر، ایم ایس ایم آنندن اور ایس۔ ولارمتی سمیت کئی بڑے نام شامل ہیں۔ ان رہنماؤں کی شمولیت سے جہاں اے آئی اے ڈی ایم کے کی تنظیمی قوت متاثر ہونے کا امکان ہے، وہیں وجے کی پارٹی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
اسی دوران یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایم۔ کے۔ الاگیری کی بیٹی کیال وِژی بھی مہابلی پورم میں ہونے والے اسی پروگرام کے دوران ٹی وی کے کی رکنیت اختیار کریں گی۔
ضلعی عہدیدار اور کارکن بھی چھوڑ رہے ہیں پارٹی
ذرائع کے مطابق اے آئی اے ڈی ایم کے کے متعدد ضلعی عہدیدار، بالخصوص کرور اور پدوککوٹئی سے تعلق رکھنے والے کئی رہنما، سابق ارکانِ اسمبلی اور بڑی تعداد میں کارکن بھی پارٹی چھوڑ کر ٹی وی کے میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینئر رہنماؤں اور کارکنوں کی یہ شمولیت وجے کی جماعت کی تنظیمی بنیاد کو مزید مستحکم کرے گی اور آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل تمل ناڈو کی سیاست میں نئے سیاسی اتحاد اور صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
ایم۔ آر۔ وجے بھاسکر نے قیادت پر اٹھائے سوال
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سابق وزیر ایم۔ آر۔ وجے بھاسکر حال ہی میں اپنے رکنِ اسمبلی کے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں، جبکہ سی۔ وجے بھاسکر پہلے ہی اسمبلی کی رکنیت اور اے آئی اے ڈی ایم کے دونوں سے الگ ہو چکے ہیں۔ پارٹی چھوڑتے وقت ایم۔ آر۔ وجے بھاسکر نے اے آئی اے ڈی ایم کے سربراہ ایڈاپاڈی کے۔ پلانی سوامی کے بعض فیصلوں پر ناراضی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پلانی سوامی کی قیادت سے اختلاف نہیں تھا بلکہ ان کے ایک فیصلے پر شدید اعتراض تھا۔ ان کے مطابق کارکنوں کے جذبات اور سینئر رہنماؤں کی رائے کو نظر انداز کیا گیا، جس کے باعث پارٹی مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے سب نے بھرپور محنت کی، لیکن حالات ایسے بن گئے کہ انہیں بھاری دل اور جذباتی کیفیت میں جماعت کو خیر باد کہنا پڑا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


