حادثے کا شکار ایئر انڈیا کا طیارہ (فائل فوٹو)
شہری ہوابازی کے وزیر کے رام موہن نائیڈو نے جمعہ کو کہا کہ احمد آباد میں گزشتہ ماہ ہوئے ایئر انڈیا طیارہ حادثے کے بارے میں ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ بہت جلد متوقع ہے۔ واضح رہے کہ 12 جون کو ایئر انڈیا کا بوئنگ 787-8 طیارہ آپریٹنگ فلائٹ AI 171 لندن گیٹ وِک کے راستے احمد آباد سے ٹیک آف کے فوراً بعد ایک میڈیکل ہاسٹل کمپلیکس سے ٹکرا گیا تھا، جس میں 241 مسافروں اور عملے کے افراد کے ساتھ کچھ شہریوں سمیت 260 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم معجزاتی طور پر اس حادثے میں ایک مسافر بچ نکلا تھا۔
تاہم اب تک اس حادثے کی اصل وجہ کا پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ دریں اثنا ایک پریس کانفرنس میں اس حادثے کی ابتدائی تحقیقات کی رپورٹ جاری کیے جانے کے تعلق سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر رام موہن ریڈی نے کہا کہ ’’بہت جلد (رپورٹ آ جائے گی)… AAIB اس پر کام کر رہا ہے… یہ AAIB کی ذمہ داری ہے، انھیں اپنا کام کرنے دیں۔‘‘
حادثے کے 30 دنوں کے اندر آ جانی چاہیے رپورٹ
انھوں نے مزید کہا کہ وزارت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ تحقیقات کے پورے عمل میں شفافیت اور جواب دہی ہو۔ توقع ہے کہ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے اصولوں کے تحت AAIB اس حادثے کے 30 دنوں کے اندر ابتدائی رپورٹ اسے پیش کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ احمد آباد میں ہونے والا حادثہ اپنی نوعیت کا پہلا حادثہ تھا، کیوں کہ اس سے قبل کبھی بھی بوئنگ کا ڈریم لائنر ایسےحادثے کا شکار نہیں ہوا تھا، جس میں طیارہ مکمل طور پر تباہ وہ گیا ہو۔ ابتدائی طور پر تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ حادثے کی وجہ دونوں انجن کی خرابی یا پرندوں سے ٹکراؤ ہو سکتا ہے، تاہم ابھی اس حوالے سے حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ چوں کہ طیارے کا بلیک باکس مل چکا ہے، لہٰذا حتمی رپورٹ کے آنے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجہ کا علم ہو سکے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

