ایک پاکستانی شہری نے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت کے جوابی اقدام یعنی ’آپریشن سندور‘ کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خود کو مظلوم ظاہر کر رہا ہے، حالانکہ جو لوگ دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں، انہیں اس کے نتائج پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔
بھارت کا ردعمل جنگ نہیں، انصاف تھا
پاکستانی شہری نے کہا: “میں پاکستانی ہوں اور سیدھی بات کہوں گا: بھارت کو جواب دینے کا پورا حق تھا۔ پہلے آپ ان کے لوگوں پر حملہ کرتے ہیں اور جب وہ جواب دیتے ہیں تو اچانک امن اور انسانی حقوق کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ لیکن جب 26 معصوم جانیں گئی تھیں، تب یہ جذبہ کہاں تھا؟ بھارت کا ردعمل جنگ نہیں، انصاف تھا۔” یہ بات ’ابھے‘ نامی پاکستانی شہری نے کہی، جن کا انسٹاگرام پروفائل بتاتا ہے کہ وہ گزشتہ پانچ سال سے فاریکس ٹریڈر ہیں اور ISKCON (بھکتی یوگا تنظیم) سے وابستہ ہیں۔ ان کی یہ ویڈیو 4.9 کروڑ سے زائد بار دیکھی جا چکی ہے اور اسے 27 لاکھ سے زائد لوگوں نے لائک کیا ہے۔
بھارت نے جوابی کارروائی کی تو پاکستان مظلوم بننے لگا
انہوں نے مزید کہا کہ: “اب جب بھارت نے جوابی کارروائی کی تو پاکستان مظلوم بننے لگا۔ اور ہاں، کوئی جنگ نہیں چاہتا، نہ بھارت نہ پاکستان۔ لیکن جب آپ دہشت گردی کی پرورش کرتے ہیں، تو پھر اس کا نتیجہ دیکھ کر حیران نہ ہوں۔ امن کی بات کرنا آسان ہوتا ہے، جب آپ کے اپنے لوگ مارے نہ جا رہے ہوں۔ اور آخر میں، یہ نہ بھولیں کہ بھارت نے یہ سب شروع نہیں کیا، اس نے صرف جواب دیا، اور میرے نزدیک یہ جنگ نہیں بلکہ انصاف تھا۔“
اس آپریشن میں 100 سے زائد دہشت گرد مارے گئے
7 مئی کو بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (POK) میں واقع 9 دہشت گرد ٹھکانوں پر حملے کیے۔ ان میں جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ کے تربیتی کیمپ شامل تھے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق، صرف 25 منٹ کے اس آپریشن میں 100 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔
پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری کی
اس کے بعد پاکستان نے لائن آف کنٹرول (LoC) پر شدید گولہ باری شروع کی، جس کا سب سے زیادہ اثر جموں و کشمیر کے پنچھ ضلع پر پڑا۔ اس شیلنگ میں کم از کم 16 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ مینڈھر، کرشنا گھاٹی اور منکوٹ جیسے علاقے شدید طور پر نشانے پر رہے۔ مزید یہ کہ پاکستان نے کشیدگی کو بڑھاتے ہوئے بھارت کے کئی شہروں پر ڈرون اور میزائل حملے بھی کیے، جن میں جموں و کشمیر، پنجاب، راجستھان اور گجرات شامل تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



