ہلدوانی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی 8 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں منعقدہ ’وجے شنکھ ناد ریلی‘ کے بعد اب سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ریلی ختم ہونے کے بعد میدان میں شدھی کرن ہَون کرایا گیا۔
میدان کی پاکیزگی بحال کرنے کا دعویٰ
شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس کے صدر گریش پانڈے اور پنڈت موہن شاستری نے کہا کہ ریلی کے بعد رام لیلا میدان میں شدھی کرن ہَون کیا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ ریلی کے دوران مذہبی نعروں اور تبصروں سے میدان کی پاکیزگی متاثر ہوئی ہے۔
گریش پانڈے نے کہا، ’’یہ یَگ اس مقدس مقام کی پاکیزگی بحال کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ یَگ شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس کی نگرانی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ ہندوؤں کے جذبات اس لیے مجروح ہوئے، کیونکہ اسٹیج پر ایک ایسے شخص کو جگہ دی گئی، جو ہندو تنظیموں کا موازنہ سانپوں سے کرتا ہے اور مسلم برادری سے انہیں ختم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔‘‘
ہندو دھرم کے خلاف بیان دینے کا الزام
پنڈت موہن شاستری نے کہا، ’’ہم رام لیلا میدان میں نیک نیتی اور سَدبُدھی کے لیے یَگ کر رہے ہیں۔ دو تین دن پہلے مذہب مخالف عناصر نے ہمارے مریادا پرشوتم بھگوان رام چندر کے خلاف بیانات دیے اور ہندو دھرم اور اس کی تباہی کے بارے میں باتیں کیں۔‘‘
کھڑگے کو سناتن مخالف قرار دیا
تنظیم کے ارکان نے کھڑگے کو سناتن اور ہندو تنظیموں کا مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس میدان میں رام لیلا کا انعقاد ہوتا ہے، وہاں ایسے شخص کے آنے کے بعد میدان کی شدھی کرن ضروری تھی۔ تنظیم نے کھڑگے کے ماضی میں دیے گئے مبینہ سناتن مخالف بیانات کو بھی اس کی بنیاد قرار دیا۔
یَگ کے بعد سیاسی بیان بازی تیز
کانگریس کی ’وجے شنکھ ناد ریلی‘ میں پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے شرکت کی تھی۔ ریلی کے بعد ان کے جانے کے بعد کرائے گئے اس یَگ کو لے کر اب سیاسی بیان بازی شروع ہو گئی ہے۔ شری رام سینا کا کہنا ہے کہ یہ یَگ اس مقام کی پاکیزگی واپس لانے کے لیے کیا گیا ہے، جہاں مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ دوسری جانب کانگریس نے اس اقدام کو سیاسی قرار دیا ہے۔ فی الحال ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ہوئے اس شدھی کرن یَگ کے بعد اتراکھنڈ کی سیاست میں بیان بازی کا دور تیز ہو گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


