Bharat Express DD Free Dish

ایڈوکیٹ وشنوشنکر جین اور پشپندر کلشریشٹھ نے بھارت ایکسپریس کے کانکلیو میں ’سناتن دھرم‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، سی ایم ڈی اپیندر رائے نے کہا- موکش صرف ہمارے یہاں…

بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کی جانب سے آج قومی دارالحکومت دہلی میں ’نئے بھارت کی بات ، دہلی کے ساتھ‘کے عنوان سے ایک کانکلیو کا انعقاد کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل وشنوشنکر جین اور قوم پرست مفکر پشپندر کلشریشٹھ نے بھی اس میگا کانکلیو میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کی جانب سے آج قومی دارالحکومت دہلی میں ’نئے بھارت کی بات ، دہلی کے ساتھ‘کے عنوان سے ایک کانکلیو کا انعقاد کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل وشنوشنکر جین اور قوم پرست مفکر پشپندر کلشریشٹھ نے بھی اس میگا کانکلیو میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان دونوں نے سناتن دھرم، ہندو سماج، مندروں کی تعمیر نو، اور عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991 پر لیکچر دیا۔ انہوں نے ہندوستان میں اسلامی بنیاد پرستوں کے ذریعہ ڈھائے جانے والے مظالم اور 1947 کے بعد ہندوؤں کے مفادات کو نقصان پہنچانے والی چیزوں پر بھی بات کی۔

پشپیندر کلشریشٹھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کل بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں دھرم سے کیا لینا دینا، ہمیں دھرم کی ضرورت نہیں۔ لیکن، وہ نہیں جانتے کہ دھرم کا اصل مفہوم فرض ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھرم کوئی فرقہ نہیں ہے۔ یہ ہندو مسلم، سکھ یا عیسائی نہیں ہے بلکہ دھرم کا مطلب ہے ڈیوائین ڈیوٹی۔ کلشریشٹھ نے اس بات پر زور دیا کہ سناتن دھرم کا بنیادی مقصد، جو شروع سے ابد تک موجود رہے گا، انسانیت اور کائنات کے قوانین کی پیروی کرنا ہے۔

70-75 سالوں میں ہم نے جھوٹ کو سچ ماننے کی عادت ڈالی ہے

پشپیندر کلشریسٹھ نے یہ بھی کہا کہ پچھلے 70-75 سالوں میں ہندو سماج جھوٹ بولنے اور سننے کا عادی ہو گیا ہے۔ ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ ہندوتوا ایک دھوکہ ہے، وہیں یہ ایک سچائی ہے۔ انہوں نے ہندوستانی معاشرے میں سچ بولنے کی ضرورت پر زور دیا۔

پشپندر کلشریشٹھ نے نفرت انگیز تقریر کے معاملے پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے دو ججوں سے پوچھے گئے ایک سوال کا حوالہ دیا کہ اگر کوئی مسلمانوں کے پیغمبر کے بارے میں تبصرہ کرتا ہے تو اس کا سر قلم کرنے کی دھمکی کیوں دی جاتی ہے؟ انہوں نے قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ کیا نفرت انگیز تقریر پر سزا دینا درست ہے اور کیا ہندو سماج کے حقوق کو پامال کرنے کی اجازت ہے؟

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read