نئی دہلی: اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز لمیٹڈ (AAHL) نے اپنی جدید ڈیجیٹل سروس ڈیجی یاترا کو مزید وسعت دیتے ہوئے کرناٹک کے منگلورو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کیرالا کے ترواننتھاپورم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی شروع کر دیا ہے۔ اس توسیع کے ساتھ ہی اے اے ایچ ایل کے زیرِ انتظام تمام سات فعال ایئرپورٹس پر ڈیجی یاترا سہولت دستیاب ہو گئی ہے، جس کے ذریعے مسافروں کے سفر کو مزید تیز، آسان اور بغیر کاغذی کارروائی کے بنایا جا رہا ہے۔
ڈیجی یاترا کیا ہے؟
ڈیجی یاترا ایک جدید ڈیجیٹل نظام ہے جو بایومیٹرک یعنی چہرہ شناختی ٹیکنالوجی کے ذریعے مسافروں کی شناخت کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے تحت مسافروں کو بار بار دستاویزات دکھانے کی ضرورت نہیں رہتی اور ایئرپورٹ کے مختلف مراحل تیزی سے مکمل ہو جاتے ہیں۔ یہ نظام نہ صرف وقت کی بچت کرتا ہے بلکہ سیکورٹی کو بھی مزید مضبوط بناتا ہے۔
پہلے کن ایئرپورٹس پر دستیاب تھی سروس؟
اے اے ایچ ایل کے ڈائریکٹر جیت اڈانی کے مطابق، 15 اگست 2023 کو آغاز کے بعد یہ سروس پہلے ہی ممبئی، احمد آباد، جے پور، لکھنؤ اور گوہاٹی کے ایئرپورٹس پر کامیابی سے چل رہی تھی۔ اب منگلورو اور ترواننت پورم میں اس کا آغاز کمپنی کے جدید ٹیکنالوجی اپنانے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، جس کا مقصد مسافروں کو زیادہ سہولت اور بہتر سکیورٹی فراہم کرنا ہے۔
مسافروں میں تیزی سے مقبولیت
کمپنی کے مطابق، ڈیجی یاترا کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بعض ایئرپورٹس پر ایک ہی دن میں اس کا استعمال 37 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ مسافر اس سہولت کو اختیار کر رہے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے انہیں لمبی قطاروں اور پیچیدہ عمل سے نجات ملتی ہے، جس سے ان کا مجموعی سفری تجربہ بہتر ہوتا ہے۔ ڈیجی یاترا منصوبہ بھارت میں ایئر ٹریول کے تجربے کو جدید بنانے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی ڈیجیٹل سہولیات نہ صرف مسافروں کے لیے آسانی پیدا کریں گی بلکہ ملک کے ایوی ایشن سیکٹر کو عالمی معیار کے مطابق بھی بنائیں گی۔ منگلورو اور ترواننت پورم ایئرپورٹس پر ڈیجی یاترا کا آغاز اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت میں ہوائی سفر تیزی سے ڈیجیٹل اور اسمارٹ ہو رہا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے ذریعے سہولت اور سکیورٹی دونوں کو یکجا کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



