ممبئی: ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک انوکھے اور چونکا دینے والے واقعے میں کبوتروں کو دانہ ڈالنے پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ یہ غیر معمولی کارروائی ممبئی کے ماہِم پولیس اسٹیشن میں ایک نامعلوم شخص کے خلاف اس وقت عمل میں آئی جب اس نے مبینہ طور پر چلتی گاڑی سے کبوتروں کو دانہ ڈالا۔ یہ اقدام بامبے ہائی کورٹ کے حالیہ سخت احکامات کے تحت اٹھایا گیا ہے، جس میں عدالت نے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کو حکم دیا تھا کہ عوامی یا کھلے مقامات پر کبوتروں کو دانہ ڈالنے پر پابندی عائد کی جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
عدالتی حکم اور اس کی بنیاد
30 جولائی کو جانوروں سے محبت کرنے والے ایک گروپ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے واضح ہدایات جاری کیں کہ کبوتر خانوں اور عوامی جگہوں پر بڑھتی ہوئی کبوتر آبادی سے صحت عامہ کو خطرات لاحق ہیں۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ انتظامیہ کی بارہا تنبیہ کے باوجود لوگ اب بھی دانہ ڈالنے سے باز نہیں آ رہے، جس سے شہر میں گندگی، بیماریاں اور فضائی آلودگی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اگر شہر میں بیماری پھیلنے سے بچنا ہے تو کبوتروں کو دانہ ڈالنے جیسی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں پر سختی سے روک لگانی ہوگی۔
بی ایم سی اور پولیس کا سخت موقف
عدالتی ہدایت کے بعد بی ایم سی اور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایسے تمام مقامات کی نگرانی شروع کر دی جہاں دانہ ڈالنے کے واقعات عام ہیں، خصوصاً ماہِم، بھائکھلہ اور چرچ گیٹ جیسے علاقوں میں۔ ماہِم پولیس کے مطابق، ایف آئی آر نامعلوم فرد کے خلاف درج کی گئی ہے، جس نے سڑک پر چلتی گاڑی سے کبوتروں کے لیے دانہ پھینکا، جو کہ پبلک اسپیس اور ٹریفک سیکورٹی دونوں کے لحاظ سے خطرناک عمل مانا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل
یہ خبر منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل دیکھنے کو ملے۔ کچھ افراد نے عدالت کے فیصلے کو صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا، جب کہ دوسروں نے اسے بے رحمانہ یا حد سے زیادہ سخت قرار دیا۔ جانوروں سے محبت کرنے والے افراد نے سوال اٹھایا کہ آیا انسانیت اور شفقت کا یہ اظہار واقعی جرم بن چکا ہے؟ ممبئی میں درج ہونے والی یہ ایف آئی آر ایک نئی قانونی اور سماجی بحث کا آغاز کر چکی ہے کہ کیا عوامی مقامات پر پرندوں کو دانہ ڈالنا جرم ہونا چاہیے؟ یا یہ کہ شہری نظم و نسق اور صحت عامہ کے لیے ایسے جذباتی عمل پر بھی سختی ضروری ہے؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


