Bharat Express DD Free Dish

Bus catches fire in Delhi; all passengers are safe: دہلی کے کشمیری گیٹ میں بس میں لگی خوفناک آگ، 25 مسافر بال بال بچے، اوورلوڈنگ اور لاپرواہی کے سبب پھر دہلی میں حادثہ

ان بسوں میں اکثر حد سے زیادہ مسافر اور سامان لادا جاتا ہے، یہاں تک کہ چھتوں پر بھی کافی تعداد میں سامان  رکھا جاتا ہے، جس سے پلٹنے اور آتشزدگی کا مسلسل خطرہ رہتا ہے۔اگرچہ ڈی ٹی سی اور ٹرانسپورٹ انڈورسمنٹ ٹیمیں کاغذوں میں کارروائی کا دعویٰ کرتی ہیں

دہلی کے سول لائنز علاقے میں منگل کو ایک خوفناک حادثہ پیش آیا، جب کشمیری گیٹ کے قریب گنپتی اپارٹمنٹ کے پاس مسافروں سے بھری ایک نجی بس میں اچانک آگ لگ گئی۔ بس میں تقریباً 20 سے 25 مسافر سوار تھے ،بلکہ غیر قانونی طور پر تجارتی سامان بھی بھاری تعداد میں لادا  ہوا تھا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق پہلے دھواں نکلا اور چند ہی لمحوں میں بھڑکتی ہوئی آگ نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چند منٹ میں بس پوری طرح جل گئی۔ خوش قسمتی سے تمام مسافر بروقت باہر نکلنے میں کامیاب رہے اور ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ کسی کی موت کی اطلاع نہیں ہے، البتہ کچھ لوگوں کو معمولی جھلسنے اور چوٹ لگنے کی شکایات ہیں۔ حادثہ گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے کچھ ہی فاصلے پر پیش آیا، جس نے حفاظتی نظام پر بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔

واقعے کے وقت صورتحال

آگ لگتے ہی علاقے میں خوف پھیل گیا ۔ ٹریفک پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سڑک پر آمدورفت روک دی اور آگ بجھانے کا عمل شروع کیا گیا۔ فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے بڑی کوشش کے بعد شعلوں پر قابو پایا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے جانچ شروع کر دی ہے۔ لوگوں  کا کہنا ہے کہ سول لائنز جیسے حساس اور مصروف علاقے میں ایسی واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی بسوں کی مینٹیننس میں سختی سے لاپروائی برتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں یہ حادثات بڑھتے جا رہے ہیں۔

دہلی میں ڈگہ مار بس مافیا بے قابو

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ دہلی میں غیر قانونی روٹس پر چلنے والی ڈگہ مار پرائیویٹ بسیں مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ شہر میں کئی مقامات پر ان بسوں کے اڈے سرگرم ہیں، جن میں شامل ہیں:جافعرآباد، سیلم پور، سیمہ پوری، سرائے کالے خاں، اوکھلا، مودی مل،اندھیریا موڑ، موری گیٹ، اندرلک، پہاڑ گنج،رام لیلا گراؤنڈ پارکنگ

ان بسوں میں اکثر حد سے زیادہ مسافر اور سامان لادا جاتا ہے، یہاں تک کہ چھتوں پر بھی کافی تعداد میں سامان  رکھا جاتا ہے، جس سے پلٹنے اور آتشزدگی کا مسلسل خطرہ رہتا ہے۔اگرچہ ڈی ٹی سی اور ٹرانسپورٹ انڈورسمنٹ ٹیمیں کاغذوں میں کارروائی کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا، اور مافیا مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ کشمیری گیٹ پر پیش آیا یہ حادثہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ بسوں میں اوورلوڈنگ، لاپرواہی اور غیر قانونی آپریشن عام شہریوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ اگر انتظامیہ نے سخت قوانین لاگو نہ کیے تو آنے والے دنوں میں ایک بڑی تباہی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read