نئی دہلی: بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے جمعہ کو جاری کردہ اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ 2000 روپے کے تقریباً 98.47 فیصد نوٹ واپس بینکنگ نظام میں آ چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اُس اعلان کے تقریباً تین سال بعد سامنے آئے ہیں، جس میں بڑے مالیت کے ان نوٹوں کو گردش سے مرحلہ وار ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔مرکزی بینک کے مطابق 19 مئی 2023 کو 2000 روپے کے نوٹوں کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جو کرنسی مینجمنٹ کے وسیع عمل کا حصہ تھا۔ اُس وقت ان نوٹوں کی کل مالیت تقریباً 3.56 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو اب گھٹ کر 30 اپریل 2026 تک صرف 5,451 کروڑ روپے رہ گئی ہے۔
آر بی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ “جب 19 مئی 2023 کو 2000 روپے کے نوٹوں کو واپس لینے کا اعلان کیا گیا تھا، اُس وقت ان کی کل مالیت 3.56 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو اب کم ہو کر 5,451 کروڑ روپے رہ گئی ہے۔ اس طرح اُس وقت گردش میں موجود 98.47 فیصد نوٹ واپس آ چکے ہیں۔”نوٹوں کی واپسی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ملک بھر میں آر بی آئی کے 19 اجرا دفاتر (ایشو آفسز) میں 2000 روپے کے نوٹ تبدیل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ بعد ازاں 9 اکتوبر 2023 سے ان دفاتر میں ان نوٹوں کو براہ راست بینک کھاتوں میں جمع کرانے کی سہولت بھی شروع کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: آبزرور کے معاملے پر ٹی ایم سی کوبڑا جھٹکا، سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوافسر کے انتخاب کا حق
یہ بھی پڑھیں:تیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی جاری کیں نئی قیمتیں، جانیے آپ کے شہر میں کتنی آئی تبدیلی
مرکزی بینک نے مزید وضاحت کی کہ عوام اب بھی ملک کے کسی بھی ڈاک خانے سے ‘انڈیا پوسٹ’ کے ذریعے 2000 روپے کے نوٹ آر بی آئی کے اجرا دفاتر کو بھیج سکتے ہیں، تاکہ یہ رقم ان کے بینک کھاتوں میں جمع ہو سکے۔آر بی آئی کے مطابق افراد اور ادارے اب بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور نوٹوں کو باضابطہ طریقے سے جمع کرا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی بینک نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ 2000 روپے کے نوٹوں کو گردش سے ہٹایا جا چکا ہے، لیکن یہ اب بھی قانونی حیثیت (لیگل ٹینڈر) رکھتے ہیں اور ان کی قدر برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


