Bharat Express DD Free Dish

PM Modi and German Chancellor Discussed: بھارت اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کے 75 سال، وزیر اعظم مودی نے چانسلر مرز سے کی بات

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بات چیت کی معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ چانسلر مرز کے ساتھ ان کی گفتگو دوستانہ اور بامعنی رہی۔ دونوں لیڈروں نے بھارت-جرمنی اسٹریٹجک شراکت داری کو آنے والے برسوں میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

نئی دہلی: بھارت اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو جرمنی کے وفاقی چانسلر فریڈرک مرز سے فون پر بات چیت کی۔ دونوں لیڈروں کے درمیان گفتگو میں تجارت اور سرمایہ کاری سے لے کر دفاع، صاف توانائی اور جدید ٹیکنالوجی سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بات چیت کی معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ چانسلر مرز کے ساتھ ان کی گفتگو دوستانہ اور بامعنی رہی۔ دونوں لیڈروں نے بھارت-جرمنی اسٹریٹجک شراکت داری کو آنے والے برسوں میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

تجارت اور ٹیکنالوجی سے ٹیلنٹ موبیلٹی تک تعاون

گفتگو کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے ساتھ دفاعی تعاون، صاف توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور ماہر افرادی قوت کی نقل و حرکت جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ بھارت اب جرمنی کے ساتھ صرف روایتی تجارتی تعلقات تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ جدید ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت اور مستقبل کی ضروریات سے متعلق شعبوں میں بھی تعاون کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے جرمنی کو یورپ کے ساتھ بھارت کے تعلقات کا ایک اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں جرمنی بھارت کا ایک اہم شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی قربت کو وسیع تر اسٹریٹجک تعاون کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سال 2026 بھارت-جرمنی تعلقات کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس سال دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوئے ہیں، جبکہ دونوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی 25 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

1951 میں قائم ہوئے تھے سفارتی تعلقات

بھارت نے مارچ 1951 میں جرمنی کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی کے ساتھ جنگ کی حالت ختم کرنے والے ابتدائی ممالک میں بھارت بھی شامل تھا۔ تقریباً پانچ دہائیوں بعد سال 2000 میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا۔ آج جرمنی یورپی یونین میں بھارت کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ بھارت میں جرمنی کی 2 ہزار سے زیادہ کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتی ہیں۔

فریڈرک مرز نے 12 اور 13 جنوری 2026 کو بھارت کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ وزیر اعظم دفتر کے مطابق یہ دورہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر ہوا تھا۔ اس دوران جرمن چانسلر کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی بھارت آیا تھا، جس میں 23 معروف جرمن سی ای اوز اور صنعتی شعبے کے نمائندے شامل تھے۔ چانسلر بننے کے بعد مرز کا یہ پہلا سرکاری دورہ بھارت تھا اور ایشیا کا بھی ان کا پہلا دورہ تھا۔ اس سے یہ اشارہ ملا کہ جرمنی ہند-بحرالکاہل خطے میں بھارت کو ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔

دفاعی تعاون میں بھی تیزی

بھارت اور جرمنی کے تعلقات میں دفاعی شعبے کی اہمیت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دونوں ممالک نے دفاعی صنعتی تعاون کے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ اس کا مقصد صرف ہتھیاروں کی خرید و فروخت تک محدود رہنا نہیں بلکہ مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے ذریعے دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ قابل تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن کے شعبوں میں بھی دونوں ممالک کی شراکت داری مضبوط ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل گورننس اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑھتا تعاون بھی بھارت-جرمنی تعلقات کے بدلتے ہوئے دائرہ کار کی عکاسی کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read