اترپردیش کے بدایوں ضلع کے راجا کی سیکری گاؤں میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا مجسمہ نصب کرنے کے معاملے پر تقریباً 12 سے 13 گھنٹے تک تنازع جاری رہا، جو منگل کی شام پتھراؤ میں تبدیل ہوگیا۔ یہ مجسمہ گرام سماج کی زمین پر نصب کیے جانے کی اطلاع کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے موقع پر فورس تعینات کی تھی۔
پولیس اور انتظامیہ کی گاڑیوں پر پتھراؤ
شام تقریباً ساڑھے سات بجے حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے جب مشتعل افراد نے پولیس اور انتظامیہ کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کردیا۔ پتھراؤ میں ایس ڈی ایم، تحصیلدار، نایب تحصیلدار اور پولیس افسران کی گاڑیوں سمیت تقریباً ایک درجن گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
کئی پولیس اہلکار زخمی
پتھراؤ کے دوران ایس ڈی ایم کے پاؤں پر پتھر لگا، جبکہ ان کے اردلی اور متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً نصف درجن پولیس اہلکاروں کو چوٹیں آئیں۔ موقع پر موجود ایک وکیل بھی پتھر لگنے سے زخمی ہوا اور اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
مجسمے کو لے کر کیسے شروع ہوا تنازع؟
رپورٹس کے مطابق گاؤں میں گرام سماج کی کھلیان کی زمین پر بغیر اجازت امبیڈکر کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔ بعد میں مجسمے کو نقصان پہنچنے کی بات سامنے آئی، جس کے بعد مقامی افراد میں غصہ پھیل گیا۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کے دوران بھی تنازع بڑھتا گیا اور شام کو پتھراؤ شروع ہوگیا۔
32 نامزد سمیت کئی افراد کے خلاف مقدمہ
واقعے کے بعد پولیس نے 32 نامزد افراد سمیت کئی نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد تقریباً ایک درجن تک بتائی گئی ہے، جبکہ بعض تازہ اطلاعات میں گرفتاریوں کی تعداد الگ بتائی گئی ہے۔
گاؤں میں پولیس فورس تعینات
واقعے کے بعد ضلع مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت اعلیٰ حکام موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس نے علاقے میں اضافی فورس تعینات کردی ہے۔ حکام کے مطابق مجسمے کو محفوظ مقام پر رکھ دیا گیا ہے اور فی الحال صورتحال قابو میں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
