صنعاء: یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی پریزیڈینشل لیڈرشپ کونسل (پی ایل سی) نے 90 دن کی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا گیا ہے اور 72 گھنٹوں کے لیے فضائی، بحری اور زمینی راستوں پر ناکہ بندی عائد کر دی گئی ہے۔
یمن میں جنوبی علیحدگی پسند گروپ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) نے حال ہی میں حضرموت اور المہرہ صوبوں کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا، جنہیں امارات (یو اے ای) کی حمایت حاصل ہے۔ اسی کے جواب میں پی ایل سی نے یہ اقدامات اٹھائے۔ رشاد العلیمی نے اسے “ناقابلِ قبول بغاوت” قرار دیا۔
ایک بیان میں کہا گیا، ’’متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کیا جاتا ہے۔” پریزیڈینشل لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب منقسم یمن میں لڑنے والے سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ اس نے علیحدگی پسندوں کے لیے بھیجی جا رہی یو اے ای کی اسلحہ کھیپ پر حملہ کیا ہے۔
یو اے ای کے تعاون سے چلتا ہے ایس ٹی سی
یو اے ای کے تعاون سے چلنے والی سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کی افواج نے اس ماہ یمن کے جنوبی حصے میں پیش قدمی کرتے ہوئے وسائل سے مالا مال حضرموت صوبے اور پڑوسی المہرہ کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
یمنی حکومت کے مزید ٹوٹنے کا بڑھا خطرہ
العلیمی نے ایس ٹی سی کو حکم دیا کہ وہ علاقے سعودی حمایت یافتہ افواج کے حوالے کرے، اور ٹیلی ویژن خطاب میں علیحدگی پسندوں کی اس “جرأت” کو “ناقابلِ قبول بغاوت” قرار دیا۔ اس تصادم سے پہلے ہی کمزور اور بکھری ہوئی یمنی حکومت کے مزید ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے مختلف دھڑوں کو سعودی عرب اور یو اے ای کی حمایت حاصل ہے۔
حوثیوں کے ساتھ امن مذاکرات پر بھی خطرہ
اس سے ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے ساتھ جاری سست رفتار امن مذاکرات پر بھی خطرہ منڈلانے لگا ہے، جنہوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا سے حکومت کو بے دخل کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں سعودی قیادت والے اتحاد نے فوجی مداخلت کی تھی۔
یو اے ای کے اقدامات انتہائی خطرناک
سعودی عرب نے یو اے ای کے اقدامات کو “انتہائی خطرناک” قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ 2014 سے جاری حوثی بغاوت اور سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ فوری طور پر کسی فریق کی جانب سے پرتشدد ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن خطے کے استحکام پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

