Bharat Express DD Free Dish

India US Relations: روس سے تیل خریدنا بھارت کو پڑ سکتا ہے مہنگا ،کیا بھارت پر 500 فیصد ٹیرف لگائیں گے ٹرمپ؟

اس پورے معاملے میں بھارت خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر اپنی توانائی کی ضروریات پوری کی ہیں۔ اگر امریکہ کا یہ نیا قانون نافذ ہو جاتا ہے تو بھارت کو بھاری ٹیکس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،

آنے والے دنوں میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں ایک نیا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت روس سے تیل خریدنے والے ممالک کو سخت معاشی سزا دی جا سکتی ہے۔ اگر یہ بل قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو بھارت پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔امریکہ روس کے خلاف ایک نیا اور انتہائی سخت پابندیوں کا قانون تیار کر رہا ہے، جس کا نام ’’روس پر پابندیاں عائد کرنے کا قانون 2025‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد یوکرین پر حملے کے بعد روس پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔ اس بل کو ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ دونوں سینیٹروں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اس بل کی حتمی شکل دی، جسے وائٹ ہاؤس کی منظوری بھی حاصل ہو چکی ہے۔

اس مجوزہ قانون کے ذریعے امریکہ کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ بل کے تحت اگر روس آئندہ دنوں میں امن مذاکرات میں تعاون نہیں کرتا یا کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو روس سے توانائی خریدنے والے ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کیا جا سکے گا۔ قانون کی سب سے سخت شقوں میں یہ تجویز شامل ہے کہ روس سے یورینیم، گیس، تیل اور دیگر توانائی وسائل خریدنے والے ممالک کی امریکہ کو ہونے والی درآمدات پر 500 فیصد تک ڈیوٹی لگائی جائے۔

اس پورے معاملے میں بھارت خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر اپنی توانائی کی ضروریات پوری کی ہیں۔ اگر امریکہ کا یہ نیا قانون نافذ ہو جاتا ہے تو بھارت کو بھاری ٹیکس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر بھارت روس سے تیل کی خریداری جاری رکھتا ہے تو امریکہ ٹیرف میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ ایسے میں یہ نیا بل نہ صرف عالمی سیاست بلکہ بھارت اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read