نیپال میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ پیر 8 ستمبر سے شروع ہوا، جو منگل (9 ستمبر) کو بھی شدت کے ساتھ جاری رہا۔ مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر حملے کیے، پارلیمنٹ ہاؤس اور کئی اہم سیاسی رہنماؤں کے گھروں کو آگ لگا دی۔ اس دوران پی ایم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ملک میں سیاسی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اب فی الحال ملک کی باگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں ہے اور عبوری حکومت کے لیے نئے چہروں کی تلاش جاری ہے۔
‘جنریشن زی’ کی قیادت میں طلبہ کا احتجاج
یہ احتجاج اصل میں طلبہ کی قیادت میں سوشل میڈیا پر حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے خلاف شروع ہوا تھا۔ بعد میں یہ ایک بڑے عوامی احتجاج میں تبدیل ہو گیا، جس میں مبینہ کرپشن اور عوام سے حکومت کی بے رخی کے خلاف سخت ناراضگی دیکھنے کو ملی۔ اولی حکومت اور سیاسی اشرافیہ پر عوامی غصہ پوری شدت سے پھوٹ پڑا۔
صدر رام چندر پوڈیل کی اپیل
پی ایم کے استعفیٰ کے باوجود ملک میں جاری پرتشدد مظاہروں، کرفیو کی خلاف ورزی اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کے دوران، صدر رام چندر پوڈیل نے عوام سے امن اور اتحاد کی اپیل کی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا:”میں مظاہرہ کرنے والے شہریوں سمیت سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک کی مشکل صورتحال کے پرامن حل کے لیے تعاون کریں۔”
نیپال کے تاریخ کے بدترین 48 گھنٹے
8 اور 9 ستمبر کو نیپال میں جو کچھ ہوا، وہ تاریخ میں درج ہو چکا ہے۔ مظاہرین نے کئی وزیروں کو دوڑا دوڑا کر مارا، پارلیمنٹ ہاؤس کو آگ لگا دی، اور یہاں تک کہ نیپال کی تین بڑی جیلوں سے قیدی فرار ہو گئے۔ کٹھمنڈو کی نکھو جیل سے مظاہرین نے سابق وزیر داخلہ روی لامیچھانے کو بھی چھڑا لیا۔
سوشل میڈیا پر پابندی ہٹنے کے بعد بھی جاری رہے مظاہرے
نیپالی فوج نے بحران کے حل کے لیے امن و مکالمے کی اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندی اگرچہ پیر کی رات ہٹا دی گئی تھی، لیکن منگل کو مظاہروں میں مزید شدت آ گئی۔ عوامی غصہ خاص طور پر پولیس کی کارروائی میں کم از کم 19 افراد کی ہلاکت، سیاسی اشرافیہ کے مبینہ کرپشن اور عیش و آرام کی زندگی کے خلاف شدید ردعمل کی شکل اختیار کر گیا۔
بھارت کی سرحد پر ہائی الرٹ
نیپال میں موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے وزیرِاعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے منگل کے روز تین سرحدی اضلاع چمپاوت، پیتھوراگڑھ اور اُدھم سنگھ نگر کے انتظامی، پولیس، اور سشسترا سیما بل (SSB) کے افسران کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کی۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کی گئی اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں نیپال سے ملحق بین الاقوامی سرحدوں پر سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
