بھارت میں کھانسی کا سیرپ پینے سے 25 بچوں کی موت کی خبر نے سب کو چونکا دیا ہے۔ معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع پر لوگ صدمے سے دوچار ہیں اور یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ کھانسی کے سیرپ کتنے محفوظ ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی اس معاملے میں ایکشن لیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے بھارتی حکومت سے پوچھا ہے کہ کیا بچوں کی موت کا سبب بننے والا کھانسی کا سیرپ دوسرے ممالک کو برآمد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کولڈریف نامی کھانسی کا سیرپ پینے سے کئی بچوں کی موت ہو چکی ہے۔
سیرپ میں پائی جاتی ہےیہ چیز
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس سیرپ میں دو کیمیکلز ڈائیتھیلین گلائکول (ڈی جی) اور ایتھیلین گلائکول (ای جی) کی ضرورت سے زیادہ مقدار موجود تھی۔ یہ دونوں کیمیکل بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوئے۔ مدھیہ پردیش میں اس سیرپ نے 22 بچوں کی جان لی، جب کہ پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ راجستھان کے مختلف اضلاع میں اس سیرپ سے تین بچوں کی موت ہو گئی ہے۔ ان واقعات نے نہ صرف مقامی حکام بلکہ بین الاقوامی اداروں کی بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔
WHO نے کیا یہ سوال
ڈبلیو ایچ او نے بھی اس معاملے میں ایکشن لیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے حکام نے بھارتی حکومت سے پوچھا ہے کہ کیا یہ خطرناک سیرپ بیرون ملک برآمد کیے گئے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو، ڈبلیو ایچ او گلوبل میڈیکل پروڈکٹس الرٹ جاری کرنے پر غور کرے گا۔ واضح رہے کہ ایسا الرٹ اس وقت جاری کیا جاتا ہے جب کسی دوا یا پروڈکٹ میں ایسا نقص پایا جاتا ہے جو صحت عامہ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اگر یہ سیرپ دوسرے ممالک کو برآمد کیے گئے ہیں تو، ڈبلیو ایچ او جلد ہی دوسرے ممالک میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کر سکتا ہے۔
یہ واقعہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے
اس واقعے نے بھارت میں دوا سازی کی صنعت اور ریگولیٹری اداروں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ ڈی سی جی آئی نے ایک خط جاری کیا ،جس میں کہا گیا کہ کسی بھی دوا کو مارکیٹ میں پیش کرنے سے پہلے اس کی اچھی طرح جانچ کی جانی چاہیے۔ کچھ علاقوں میں کوتاہی پائی گئی جس پر ڈی سی جی آئی نے برہمی کا اظہار کیا۔ اس نے تمام فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر بیچ کو فروخت کے لیے مارکیٹ میں جاری کرنے سے پہلے اس کا سختی سے معائنہ کریں۔
چھندواڑامیں صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ اموات مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ ضلع میں ہوئی ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے بھی سخت ایکشن لیا ہے۔ اس سیرپ کو بنانے والی دوا ساز کمپنی کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ شربت میں موجود ڈی جی اور ای جی جیسے کیمیکل بچوں کے لیے زہریلے ثابت ہوئے۔ یہ کیمیکلز کھانسی کےسیرپ میں استعمال ہونے والے عام اجزاء نہیں ہیں اور اس کی زیادہ مقدار جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

