Bharat Express DD Free Dish

Cough syrup

جھارکھنڈ کے چترا ضلع کے سمریا میں انتظامیہ نے ممنوعہ کوڈین کف سیرپ کی بڑی کھیپ برآمد کر کے منشیات کے کاروبار کا پردہ فاش کیا ہے۔ ایک سنسان گھر سے 42 پیٹیاں ضبط کی گئیں، جس سے بین الریاستی اسمگلنگ گینگ کے ملوث ہونے کا خدشہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔

اتر پردیش فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کوڈین والی کف سیرپ اور منشیات کی فہرست میں شامل دواؤں کے ذخیرہ اور غیر قانونی فروخت کے معاملے میں وارانسی، سلطانپور، بھدوہی اور پریاگ راج کی 19 میڈیسن فرموں کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔

وزارت صحت میں مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کی صدارت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی، جس میں بھارت کے ڈرگ کنٹرولر ڈاکٹر راجیو سنگھ رگھوونشی نے ’دوائیں، طبی آلات اور کاسمیٹکس ایکٹ 2025‘ کے مسودے کو پیش کیا۔

رائٹرز کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے سری سن فارما سے کولڈریف سیرپ، ریڈنیکس فارما کی ریسپ فریش ٹی آر اور شیپ فارما کی ریلیف سیرپ کے مخصوص بیچ کی پہچان کی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ یہ سیرپ صحت کے لیے خطرہ پیدا کرسکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے بھی اس معاملے میں ایکشن لیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے حکام نے بھارتی حکومت سے پوچھا ہے کہ کیا یہ خطرناک سیرپ بیرون ملک برآمد کیے گئے ہیں؟

مدھیہ پردیش میں مبینہ طور پر جان لیوا ’کولڈرف‘ کف سیرپ کے استعمال سے 20 بچوں کی موت کے معاملے میں پولیس نے شریسن میڈیکلز کے مالک رنگناتھن کو حراست میں لے لیا ہے۔ تحقیقات جاری ہے۔

متاثرہ کے والد نے بتایا کہ 10 اکتوبر اسید کی سالگرہ تھی۔ اس کے علاج میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے خرچ ہو گئے۔ علاج کے لیے انہیں اپنا آٹو رکشہ تک فروخت کرنا پڑ گیا۔ اس کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی جان نہ بچا سکے۔ اسید کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے کولڈریٖف سیرپ تجویز کی تھی۔ اسید کی والدہ اور دادی اب بھی غم سے نڈھال ہیں۔ خاندان بھر میں جہاں خوشی ہونی تھی، اب وہاں ماتم ہے۔

مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کف سیرپ  سے 12 بچوں کی موت نے پورے ملک میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس حادثے کے بعد راجستھان حکومت نے جے پور میں واقع کیسنز فارما کی 19 ادویات پر پابندی لگا دی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ، "اس میں کہا گیا ہےکہ غیر معیاری مصنوعات غیر محفوظ ہیں اور ان کا استعمال، خاص طور پر بچوں میں، سنگین اثرات یا موت کا سبب بن سکتا ہے۔