Bharat Express DD Free Dish

What Is North Korea History : کیا ہے شمالی کوریا کی تاریخ؟ ہتھیاروں کے زور پر بنا طاقتور، آئیے جانتے ہیں

شمالی کوریا آج دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جو ایٹمی طاقت کے بل پر عالمی سیاست میں اپنی موجودگی درج کراتا آیا ہے۔ اس ملک کے موجودہ حکمران کم جونگ اُن نہ صرف دنیا کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں بلکہ وہ جوہری ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ تیار کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ کم جونگ اُن ایک آمر، سخت گیر اور بے رحم رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

شمالی کوریا آج دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جو ایٹمی طاقت کے زور پر عالمی سیاست میں اپنی موجودگی درج کراتا آیا ہے۔ اس ملک کے موجودہ حکمران کم جونگ اُن نہ صرف دنیا کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں بلکہ وہ جوہری ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ تیار کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ کم جونگ اُن ایک آمر، سخت گیر اور بے رحم رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

شمالی کوریا کی بنیاد دوسری جنگ عظیم کے بعد رکھی گئی۔ 1945 میں جاپان کی شکست اور اس کے ہتھیار ڈالنے کے بعد کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ 1948 میں سوویت یونین نے شمالی حصے پر اور امریکہ نے جنوبی حصے پر قبضہ کر لیا۔ دونوں طاقتوں میں ایک مشترکہ حکومت پر اتفاق نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں 15 اگست 1948 کو جنوبی کوریا اور 9 ستمبر 1948 کو شمالی کوریا ایک الگ ریاست کے طور پر وجود میں آئے۔

سوویت یونین کی حمایت سے کم اِل سُنگ نے 9 ستمبر 1948 کو پیونگ یانگ کو دارالحکومت بنا کر ’’ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا‘‘ (ڈی پی آر کے) کی بنیاد رکھی۔ وہ شمالی کوریا کے بانی رہنما بنے اور ان کے خاندان کی حکمرانی آج تک برقرار ہے۔

1950 میں شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ایک خونی جنگ چھڑ گئی۔ شمالی کوریا نے پورے جزیرہ نما کو کمیونسٹ نظام کے تحت متحد کرنے کے لیے جنوبی کوریا پر حملہ کیا۔ تین سال تک جاری رہنے والی اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔ 1953 میں جنگ بندی تو ہوئی، لیکن امن معاہدے پر کبھی دستخط نہیں کیے گئے، اسی لیے دونوں ممالک آج تک تکنیکی طور پر جنگ کی حالت میں ہیں۔ شمالی کوریا میں اقتدار ہمیشہ کم خاندان کے پاس رہا۔ کم اِل سُنگ کے بعد ان کے بیٹے کم جونگ اِل نے اقتدار سنبھالا۔ دسمبر 2011 میں کم جونگ اِل کے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کے بعد ان کے بیٹے کم جونگ اُن برسراقتدار آئے۔ 2012 سے آج تک وہ آمر، سخت گیر اور بے رحم حکمران کی حیثیت سے حکومت کر رہے ہیں۔

آج شمالی کوریا دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوج رکھتا ہے، جس میں دس لاکھ سے زائد فوجی شامل ہیں۔ اس کے پاس بیلسٹک میزائلوں سے لے کر ایٹمی بم تک جدید ہتھیار موجود ہیں۔ اگرچہ ملک کی عام آبادی غربت، بھوک اور پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہے، لیکن کم حکومت اربوں ڈالر فوجی طاقت اور ایٹمی پروگرام پر خرچ کر رہی ہے۔ کم حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی، سیاسی جبر اور عوامی آزادیوں کی ، پابندی جیسے الزامات لگتے رہے ہیں، مگر پیونگ یانگ ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیتا۔ اس کی توجہ ہمیشہ ایک ہی سمت میں رہی ہے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری۔

2005 میں شمالی کوریا نے اعلان کیا کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اگلے ہی سال 2006 میں اس نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا، جس نے پوری دنیا کو چونکا دیا۔ 2009 میں دوسرا تجربہ ہوا، جس سے اس کے ایٹمی عزائم مزید واضح ہوگئے۔ کم جونگ اُن نے اپنے والد کی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو مزید طاقتور بنایا۔ آج شمالی کوریا نہ صرف مشرقی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم اسٹریٹیجک چیلنج بن چکا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read