Bharat Express DD Free Dish

North Korean

شمالی کوریا آج دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جو ایٹمی طاقت کے بل پر عالمی سیاست میں اپنی موجودگی درج کراتا آیا ہے۔ اس ملک کے موجودہ حکمران کم جونگ اُن نہ صرف دنیا کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں بلکہ وہ جوہری ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ تیار کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ کم جونگ اُن ایک آمر، سخت گیر اور بے رحم رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

بلاگر نے کہا کہ حال ہی میں شہر کے قریب ایک بارودی سرنگ پر ایک پہاڑی پر شمالی کوریا کا جھنڈا بلند کیا گیا تھا، یہ ان مشتبہ مقامات میں سے ایک ہے جہاں شمالی کوریا کے فوجیوں کے تعینات ہونے کا شبہ ہے۔

وزیر دفاع کم نے پارلیمانی آڈٹ سیشن کے دوران قانون سازوں کو بتایا کہ ’’چونکہ روس اور شمالی کوریا نے ایک فوجی اتحاد کی طرح ایک باہمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اس لیے اس طرح کی تعیناتی کا امکان بہت زیادہ ہے۔‘‘

تبدیلیوں کی مخصوص تفصیلات فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی ہیں، کیونکہ شمالی کوریا نے پہلے بھی آئینی ترامیم کو ظاہر کرنے میں تاخیر کی ہے۔ جہاں تک سمندری حدود کا تعلق ہے، شمالی کوریا ممکنہ طور پر اسے مبہم انداز میں پیش کرے گا، تاکہ وہ مستقبل میں قوانین کے ذریعے اپنا موقف واضح کر سکے۔

وزارت نے کہا، ’’اس طرح کے بیلسٹک میزائل سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ یہ جاپانی عوام کی سلامتی سے متعلق ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جاپان نے اس معاملے پر شمالی کوریا سے سخت احتجاج درج کرایا ہے۔‘‘

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ یعنی  جولائی میں، کم جونگ اُن نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا معائنہ کیا تھااور متاثرہ افراد کے ساتھ بات چیت کی تھی ، انہوں نے کہا کہ ڈوبے ہوئے علاقوں کو مکمل طور پر بحال کرنے میں مہینوں لگیں گے۔

شمالی کوریا نے منگل کے روز کہا کہ اس نے ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے تاکہ امریکہ کی بڑھتی ہوئی دشمنی کے خلاف اپنی جوہری طاقت میں اضافہ کیا جا سکے۔ شمالی کوریا کی جانب سے کیے گئے اس تجربے کی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مذمت کی ہے۔