Bharat Express DD Free Dish

What Is The Abraham Accords: کیا ہیں ابراہیمی معاہدے، جس کا ذکر وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں کیا؟ ایک بار پھر عالمی توجہ مرکوز

وزیر اعظم مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں دیے گئے خطاب میں ”ابراہیمی معاہدے“ کا ذکر ایک بار پھر عالمی سفارتی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اسے مشرقِ وسطیٰ کے ایک طویل عرصے سے کشیدہ خطے کے لیے امید کی نئی کرن قرار دیا۔

یروشلم: وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں دیے گئے خطاب میں ”ابراہیمی معاہدے“ کا ذکر ایک بار پھر عالمی سفارتی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اسے مشرقِ وسطیٰ کے ایک طویل عرصے سے کشیدہ خطے کے لیے امید کی نئی کرن قرار دیا۔ یہ خطاب اس لحاظ سے بھی تاریخی رہا کہ مودی اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والے بھارت کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں خطے کی بدلتی سیاسی صورتحال، امن کوششوں اور علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

ابراہیمی معاہدے کیا ہیں؟
ابراہیمی معاہدے دراصل 2020 میں امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والا ایک تاریخی سفارتی سمجھوتہ ہے، جس پر متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کی سرپرستی اُس وقت کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کی تھی۔ بعد ازاں مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس عمل میں شمولیت اختیار کی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن، سفارتی تعلقات کی بحالی، اقتصادی تعاون اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ معاہدے کے بعد سیاحت، تجارت، دفاع، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کئی مشترکہ منصوبوں کا آغاز ہوا، جس سے علاقائی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت
ابراہیمی معاہدے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب دوبارہ امریکی صدارت سنبھالنے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب بھی مستقبل میں اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ تاہم ریاض نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کو باضابطہ تسلیم کرنے کے لیے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا بنیادی شرط ہوگی۔ ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب اس معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو یہ اسرائیل کے لیے بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔

وزیر اعظم مودی کا مؤقف
اپنے خطاب میں نریندر مودی نے کہا کہ ابراہیمی معاہدے ایک ایسے خطے کے لیے امید کا لمحہ تھا جو طویل عرصے تک تنازعات کا شکار رہا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ امن کا راستہ اب بھی چیلنجز سے بھرپور ہے، لیکن مثبت پیش رفت کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف اسرائیل کی طرح واضح اور سخت پالیسی رکھتا ہے اور بے گناہ شہریوں کے قتل کو کسی بھی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عالمی سطح پر مربوط کارروائی ہی دہشت گردی کے خاتمے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔

اسرائیل کے ساتھ یکجہتی اور غزہ امن اقدام
مودی نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اسرائیل کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو، وہ عالمی امن کے لیے خطرہ بنتی ہے۔ وزیر اعظم نے غزہ میں جاری امن کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مذاکرات، استحکام اور پائیدار امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 1.4 ارب بھارتی عوام کی جانب سے دوستی، احترام اور شراکت داری کا پیغام لے کر اسرائیل آئے ہیں۔

پارلیمنٹ میں پرتپاک استقبال
کنیسٹ میں وزیر اعظم مودی کی آمد پر ارکانِ پارلیمنٹ نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اور ”مودی، مودی“ کے نعرے لگائے۔ خطاب کے دوران متعدد مواقع پر ارکان نے میزیں بجا کر ان کے خیالات کی تائید کی۔ مبصرین کے مطابق ابراہیمی معاہدے کا حوالہ دراصل بھارت کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت نئی دہلی مشرقِ وسطیٰ میں توازن، تعاون اور امن کے فروغ کو اپنی سفارتی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read