بنگلہ دیش میں صحافیوں کے خلاف کارروائی پر ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ملک کے سائبر سکیورٹی قانون کے تحت ایک صحافی کو گرفتار کر لیا ہے۔گرفتار کیے گئے صحافی کی شناخت بنگلہ دیشی اخبار روزنامہ اگروجاترا پرتیدین کے قائم مقام ایڈیٹر رضانور اسلام کے طور پر ہوئی ہے۔ بوگرا کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (میڈیا) عطاؤر رحمان کے مطابق، رضانور اسلام کو 18 جون کی رات غازی پور صدر اپ ضلع کے بورڈ بازار علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں عدالت کے حکم پر جمعہ کے روز انہیں بوگرا جیل منتقل کر دیا گیا۔
سائبر سکیورٹی قانون کے تحت مقدمہ
بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکا ٹریبیون کے مطابق یہ مقدمہ 15 جون کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے سلسلے میں درج کیا گیا، جس میں بوگرا-2 (شیب گنج) کے رکنِ پارلیمنٹ اور وزیرِ مملکت میر شاہے عالم پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق شکایت بوگرا پریس کلب کے خزانچی اور اخبار دی نیو نیشن کے شمالی علاقائی نمائندے تنویر عالم ریمون نے درج کرائی تھی، جس میں اخبار کے ایڈیٹر، پبلشر اور دیگر افراد سمیت مجموعی طور پر چھ لوگوں کو نامزد کیا گیا۔
عوامی لیگ نے گرفتاری کی مذمت کی، آزادیِ صحافت پر سوالات
شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے سینئر جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا اور بوگرا صدر پولیس اسٹیشن کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی۔ دیگر نامزد افراد میں روزنامہ اگروجاترا پرتیدین کے پبلشر اور ایڈیٹر مہدی حسن، نیوز ایڈیٹر اشرف علی فاروقی، رپورٹر صالح قیصر، بوگرا کے نمائندہ محمد شمس اور ضلعی رپورٹر صبیر حسن شامل ہیں۔
بنگلہ دیشی اخبار دی ڈیلی اسٹار کے مطابق شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ اگروجاترا پرتیدین نے 4 مئی کو اپنے سوشل میڈیا پیج پر “وزیرِ مملکت میر شاہے عالم بدعنوانی کے تنازع میں” کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی تھی، جسے شکایت کنندہ نے “ہتک آمیز، جھوٹی اور من گھڑت” قرار دیا۔
اس معاملے پر بنگلہ دیش کی بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ نے رضانور اسلام کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنقیدی رپورٹنگ کی بنیاد پر صحافیوں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنا آزادیِ صحافت اور آزاد میڈیا کے لیے سکڑتی ہوئی جگہ کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔
عوامی لیگ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کا ہے کہ آیا ناگوار یا تنقیدی رپورٹنگ کو جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ جماعت کے مطابق جب تنقید کو ’اشتعال انگیزی‘ اور منفی رپورٹنگ کو ’ہتکِ عزت‘ کہا جانے لگے تو آزاد صحافت کے لیے گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ رضانور اسلام ایک صحافی ہیں، سزا یافتہ مجرم نہیں، لیکن قانونی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ جیل میں ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک میڈیا پروفیشنل کی گرفتاری کا معاملہ نہیں بلکہ آزادیِ صحافت اور اقتدار میں موجود افراد کا احتساب کرنے کی صحافیوں کی صلاحیت کے لیے ایک تشویش ناک اشارہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


