مغربی ایشیا کی جغرافیائی سیاست اور عالمی تجارت کے لحاظ سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور عمان نے مل کر ایک ایسے انتہائی اہم اور بڑے منصوبے پر کام شروع کرنے کا اشارہ دیا ہے جو مستقبل میں عالمی تیل سپلائی کی سمت بدل سکتا ہے۔یہ منصوبہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے ایک نئے آبی راستے کی ترقی سے متعلق ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریباً 20 سے 30 فیصد خام تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے راستے ہوتی ہے۔ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس راستے پر ہمیشہ خطرات کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں۔ اسی خطرے کو کم کرنے کے لیے عمان اور متحدہ عرب امارات (UAE) ایک متبادل سمندری راستہ تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
اسٹریٹجک اہمیت
اس نئے آبی راستے کا مقصد جہازوں کو ہرمز کے تنگ راستے سے بچا کر براہِ راست بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
ایران پر انحصار کم ہوگا
اس وقت آبنائے ہرمز پر ایران کا خاصا اثر و رسوخ ہے۔ اگر نیا راستہ بن جاتا ہے تو عالمی تیل سپلائی کے معاملے میں ایران کی دھمکیوں یا کسی ممکنہ فوجی تصادم کے اثرات کم ہو جائیں گے۔
اقتصادی راہداری
یہ منصوبہ صرف ایک آبی راستہ نہیں ہوگا بلکہ ایک بڑے اقتصادی کوریڈور کا حصہ بن سکتا ہے، جس میں ریلوے رابطے اور پائپ لائن نیٹ ورک بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
عمان کا اہم کردار
اس منصوبے میں عمان کی جغرافیائی حیثیت انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس کے ساحل براہِ راست کھلے سمندر یعنی بحیرۂ عرب سے ملتے ہیں۔
یو اے ای کی سرمایہ کاری
متحدہ عرب امارات اس منصوبے میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور لاجسٹکس کے لیے سرمایہ کاری اور تعاون فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
تجارت اور سلامتی کے لیے کیوں ضروری؟
آبنائے ہرمز کو دنیا کے اہم “چوک پوائنٹس” میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سمندری آمد و رفت بہت زیادہ ہے اور راستہ بھی کافی تنگ ہے۔ اگر یہاں کوئی حادثہ پیش آ جائے یا جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو جائے تو دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں راتوں رات آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ نیا آبی راستہ نہ صرف وقت کی بچت کرے گا بلکہ انشورنس اخراجات اور سکیورٹی خطرات کو بھی کم کرنے میں مدد دے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


