Bharat Express DD Free Dish

Pew Survey: بھارت میں ٹرمپ اور امریکہ پر اعتماد میں کمی، 51 فیصد بھارتیوں نے ولادیمیر پوتن پر سب سے زیادہ بھروسہ ظاہر کیا

دنیا بھر میں بھی امریکہ کی شبیہ کمزور ہوئی ہے۔ 8 فروری سے 13 مئی کے درمیان 36 ممالک میں کیے گئے سروے میں اوسطاً 57 فیصد بالغ افراد نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جبکہ امریکہ کے بارے میں مثبت سوچ 49 فیصد سے کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی۔سروے میں شامل 36 ممالک میں 76 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں ڈونالڈ ٹرمپ پر اعتماد نہیں

نئی دہلی : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور کے آغاز کے بعد بھارت میں امریکہ اور ٹرمپ کے بارے میں عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے پِیو ریسرچ سینٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتیوں کے درمیان امریکہ کے بارے میں مثبت سوچ میں واضح کمی آئی ہے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن عالمی رہنماؤں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔پِیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق صرف 45 فیصد بھارتیوں نے امریکہ کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی، جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس میں نمایاں کمی درج کی گئی۔ دوسری جانب 31 فیصد بھارتیوں نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں، خصوصاً ٹیرف سے متعلق فیصلوں نے بھارت میں ان کی مقبولیت کو متاثر کیا ۔ صرف 18 فیصد بھارتیوں نے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی حمایت کی۔

سروے کے مطابق عالمی معاملات میں درست فیصلے لینے کے حوالے سے بھی بھارتی عوام کا ٹرمپ پر اعتماد کم ہوا ہے۔ گزشتہ سال 52 فیصد بھارتیوں کو ٹرمپ پر اعتماد تھا، جو اس سال گھٹ کر 39 فیصد رہ گیا، جب کہ 36 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں عالمی امور پر ٹرمپ کے فیصلوں پر اعتماد نہیں ہے۔اس کے برعکس روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھارتیوں نے سب سے زیادہ قابل اعتماد عالمی رہنما قرار دیا۔ سروے میں شامل 51 فیصد بھارتیوں نے پوتن پر اعتماد کا اظہار کیا۔ دیگر عالمی لیڈرو ں  میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر 34 فیصد، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون پر 33 فیصد، چین کے صدر شی جن پنگ پر 25 فیصد اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی پر 20 فیصد بھارتیوں نے اعتماد ظاہر کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 47 فیصد بھارتیوں کا ماننا ہے کہ امریکہ دیگر ممالک کے معاملات میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کرتا ہے، جب کہ 30 فیصد اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ سروے میں شامل کچھ افراد نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا، اسی لیے تمام اعداد و شمار کا مجموعہ 100 فیصد نہیں بنتا۔اگرچہ بھارت میں امریکہ کے بارے میں مثبت رائے میں کمی آئی ہے، اس کے باوجود 36 ممالک کے مجموعی اوسط کے مقابلے میں بھارت کا رویہ نسبتاً زیادہ مثبت رہا۔ خاص طور پر چین کے مقابلے میں امریکہ کے لیے بھارتیوں کا رجحان اب بھی بہتر پایا گیا۔پِیو ریسرچ سینٹر کے مطابق دنیا بھر میں بھی امریکہ کی شبیہ کمزور ہوئی ہے۔ 8 فروری سے 13 مئی کے درمیان 36 ممالک میں کیے گئے سروے میں اوسطاً 57 فیصد بالغ افراد نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جبکہ امریکہ کے بارے میں مثبت سوچ 49 فیصد سے کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی۔سروے میں شامل 36 ممالک میں 76 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں ڈونالڈ ٹرمپ پر اعتماد نہیں کہ وہ عالمی معاملات میں درست فیصلے کریں گے، جبکہ صرف 23 فیصد نے ان پر اعتماد ظاہر کیا۔ بھارت میں ٹرمپ کی مختلف پالیسیوں کے حوالے سے منظوری کی شرح بھی محدود رہی۔ امیگریشن پالیسی کو 17 فیصد، ایران سے متعلق پالیسی کو 28 فیصد، یوکرین کے معاملے پر 26 فیصد، غزہ کے حوالے سے 18 فیصد اور گرین لینڈ سے متعلق پالیسی کو 23 فیصد بھارتیوں نے پسند کیا۔

رپورٹ میں پاکستان کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں 82 فیصد افراد نے امریکہ کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی، جب کہ 90 فیصد پاکستانیوں نے چین کے بارے میں مثبت رائے دی۔ اس کے برعکس بھارت میں چین کے بارے میں مثبت رائے گزشتہ سال کے 21 فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد تک پہنچ گئی، لیکن امریکہ کے مقابلے میں چین کے لیے حمایت اب بھی محدود رہی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read