واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک کے اس بیان کی وضاحت کی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران میں کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا ہے۔ لوٹنک نے بھی ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے بیان کی وضاحت پیش کی۔ ٹرمپ نے ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں 18 افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر یہ معلومات دیتے ہوئے اپنے ہی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک کے بیان کی وضاحت کی۔
دراصل، لوٹنک نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران جنگ میں کسی امریکی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے ان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ جب لوٹنک نے کہا کہ کوئی ہلاک نہیں ہوا، تو ان کے ذہن میں وینزویلا تھا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’ایران میں 18 افراد مارے گئے!‘‘ امریکی میڈیا کے مطابق، لوٹنک کا بیان ایران میں جاری جنگ کے تناظر میں تھا، جبکہ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد کی تصدیق کی۔
لوٹنک نے بھی اپنی غلطی تسلیم کی
وہیں، لوٹنک نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جی20 اے آئی میٹنگ کے دوران ان سے غلطی ہو گئی تھی، کیونکہ اس وقت ان کے ذہن میں وینزویلا چل رہا تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ حالیہ امریکی حملوں میں ایران کے فوجی ٹھکانوں، ریڈار اور میزائل دفاعی نظام کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
18 ایرانی شہری ہلاک، 108 زخمی
ایران کی وزارت صحت کے مطابق، حالیہ امریکی حملوں میں 18 ایرانی شہری ہلاک اور 108 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے میں 4 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے۔
امریکی ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون
اس دوران ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


