سری لنکا کے وسطی صوبہ کے علاقہ کوٹمالے میں اتوار کو ایک خوفناک سڑک حادثہ پیش آیا۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار بس اچانک پھسل کر کھائی میں جا گری۔ اس حادثہ میں کم از کم 21 لوگوں کی موت ہوئی ہے اور 30 سے زائد لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔ حادثے کے بعد جائے وقوع پر پہنچی پولیس کی ٹیم اور علاقائی لوگوں نے مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن کیا۔ زخمی مسافرین کو بہتر علاج کے لیے فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
#Sri_Lanka At least 21 people have died after a Sri Lanka Transport Board (SLTB) bus plunged into a precipice in the Garandiella area of Ramboda on the Nuwara Eliya–Gampola main road this morning (May 11). #Lka pic.twitter.com/KwWqHr9Ceb
— Manjula Basnayake (@BasnayakeM) May 11, 2025
پولیس کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس ڈرائیور نے پہاڑی راستے پر بائیں مڑنے کی کوشش کی، اسی دوران بس پھسل کر کھائی میں گر گئی۔ یہ بس جنوبی زیارت گاہ کٹارگاما سے شمال-مغربی شہر کورونیگالا جا رہی تھی۔ حادثے کی اصل وجہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تیز رفتاری اور سڑک کی خراب حالت کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ ساتھ ہی مکینیکل خرابی یا ڈرائیور کی غفلت کے امکان کے زاویے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق روڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی سیکورٹی بھی جائے وقوعہ کا معائنہ کرے گی۔ ریاستی ٹرانسپورٹ کے ادارے کی ملکیت والی بس میں 75 مسافر سوار تھے۔
At least 21 people died and 14 were injured when a state-owned passenger bus veered off a cliff in Sri Lanka pic.twitter.com/G5ELBCubyY
— Reuters (@Reuters) May 11, 2025
سری لنکا کے ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے نائب وزیر پرسنا گناسینا نے بتایا کہ اس حادثہ میں 21 افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واضح ہو کہ یہ المناک حادثہ حالیہ مہینوں میں سری لنکا میں پیش آنے والے سب سے بڑے سڑک حادثات میں سے ایک ہے۔ اس حادثہ کے بعد ٹرانسپورٹیشن کی سخت حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ پھر سے اٹھنے لگا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

