برلن: جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہزاروں گھر گزشتہ چار دنوں سے بجلی سے محروم ہیں، جس کے باعث شہری زندگی بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ پاور گرڈ پر مبینہ حملے کے بعد جنوب مغربی برلن کے وسیع علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی، جس سے نہ صرف رہائشی عمارتیں بلکہ سپر مارکیٹس، دکانیں، ریستوران اور دیگر کاروباری مراکز بھی اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔ اگرچہ بجلی بحال کرنے کا کام مسلسل جاری ہے، تاہم متعدد علاقوں میں اب بھی بجلی بحال نہیں ہو سکی۔ خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق برلن کے کچھ علاقے لگاتار چوتھے دن بھی اندھیرے میں رہے۔ پاور نیٹ ورک چلانے والی کمپنی اسٹروم نٹز برلن نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 45 منٹ تک نیکولاسی، زیہلینڈورف، وانسی اور لِکٹر فیلڈ کے علاقوں میں تقریباً 24 ہزار 700 گھر اور 1,120 کاروباری ادارے بجلی سے محروم تھے۔
ابتدا میں آپریٹرز نے اندازہ لگایا تھا کہ جمعرات کی دوپہر تک پورے گرڈ کی مرمت مکمل کر کے بجلی بحال کر دی جائے گی، لیکن تکنیکی پیچیدگیوں کے باعث یہ عمل سست روی کا شکار ہو گیا۔ حکام کے مطابق ہفتے کی صبح ایک پاور اسٹیشن تک جانے والے کیبل میں آگ لگنے کے بعد تقریباً 45 ہزار گھروں اور 2,200 سے زائد کاروباروں کی بجلی چلی گئی تھی۔ اسٹروم نٹز برلن نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ اضلاع میں واقع پانچ اسپتالوں میں اتوار کی صبح سے تمام خدمات بحال کر دی گئی ہیں، تاہم عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس دوران برلن میں برف باری اور کم درجہ حرارت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ بغیر بجلی کے گھروں میں سردی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔
نیکولاسی کی رہائشی کرسٹین نے بتایا کہ ان کے اپارٹمنٹ میں تھرمامیٹر 11.5 ڈگری سیلسیس دکھا رہا تھا۔ انہوں نے کہا، ”یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ سونے کے لیے قدرے ٹھنڈا ماحول بہتر ہوتا ہے، لیکن اتنی شدید سردی میں رہنا مشکل ہو گیا ہے“۔ دریں اثنا، خود کو ”ولکن گروپ“ کہنے والے ایک گروہ نے اتوار کے روز آن لائن پوسٹ کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ گروہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے لِکٹر فیلڈ میں واقع ایک گیس پاور اسٹیشن سے جڑے بنیادی ڈھانچے کو کامیابی کے ساتھ نقصان پہنچایا ہے۔
برلن کے میئر کائی ویگنر نے منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں اس واقعے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ”ہم نے اس شہر میں ایک دہشت گردانہ حملہ دیکھا ہے، جو بائیں بازو کے انتہا پسندوں کی کارروائی ہے۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ نہ کوئی معمولی آتش زنی تھی اور نہ ہی عام تخریب کاری، بلکہ ایک مکمل دہشت گردانہ فعل تھا“۔ جرمن خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق جرمنی کا وفاقی استغاثہ اس معاملے کی تحقیقات دہشت گردی کے شبہے کے تحت کر رہا ہے۔ حکام کو دہشت گرد تنظیم میں رکنیت، تخریب کاری، آتش زنی اور عوامی خدمات میں خلل ڈالنے جیسے جرائم کا شبہ ہے۔ برلن کی داخلہ سینیٹر آئرس اسپرینگر نے کہا کہ پاور گرڈ پر یہ حملہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ مجرمانہ ارادے سے کیا گیا، جس نے شہر کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


