بنگلہ دیش کی محمد یونس حکومت نے شیخ حسینہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے کیس واپس کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ (فائل فوٹو)
بنگلہ دیش میں سیاسی بحران کے درمیان سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونس نے دہشت گردوں کی مدد سے بنگلہ دیش کے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس میں کئی ایسی تنظیمیں ہیں جن پر عالمی پابندی لگی ہے۔ شیخ حسینہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ یونس امریکہ کے اشارے پر ملک کو فروخت کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کی مدد سے اقتدار چلا رہے ہیں۔
یونس نے اقتدار میں آنے کے لیے غلط لوگوں کی مدد حاصل کی
’اے بی پی‘ کے مطابق شیخ حسینہ نے اپنے فیس بُک پوسٹ میں کہا کہ یونس نے اقتدار میں آنے کے لیے غلط لوگوں کی مدد حاصل کی، جن سے اب تک ہم نے بنگلہ دیش کے لوگوں کی حفاظت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد اور بنگلہ دیش کے بانی بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان نے امریکہ کو سینٹ مارٹن جزیرہ دینے سے انکار کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے انہیں اپنی جان گنوانی پڑی۔
شیخ حسینہ نے اپنے پوسٹ میں آگے لکھا، ’’صرف ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد ہم نے سخت قدم اٹھائے۔ کئی لوگوں کو گرفتار کیا لیکن اب بنگلہ دیش کی جیلیں خالی ہیں۔ یونس نے ایسے سبھی لوگوں کو رہا کر دیا ہے اور اب بنگلہ دیش میں ان دہشت گردوں کا ہی راج ہے۔‘‘
یونس کو چیف ایڈوائزر کے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں
شیخ حسینہ نے کہا کہ ہمارے عظیم بنگالی قوم کا آئین جسے ہم نے طویل جدوجہد اور مکتی سنگرام سے حاصل کیا ہے، اس انتہا پسند رہنما کو، جس نے غیر قانونی طور پر اقتدار پر قبضہ کیا ہے، آئین کو چھونے کا حق کس نے دیا؟ شیخ حسینہ نے کہا کہ یونس کو چیف ایڈوائزر کے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے اور وہ بے وجود ہیں۔ شیخ حسینہ نے الزام لگایا کہ یونس نے عوامی لیگ پر پابندی لگا دی ہے۔
واضح رہے کہ شیخ حسینہ کے بنگلہ دیش کا اقتدار چھوڑنے کے بعد سے وہاں عدم استحکام ہے۔ ملک میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف بغااوت ہوئی تھی جس کے بعد انہیں ہندوستان میں پناہ لینی پڑی۔ 2 اگست 2024 کو بنگلہ دیش میں تختہ پلٹ ہوا جس کے بعد سے شیخ حسینہ ہندوستان میں ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


