Bharat Express DD Free Dish

Sri Lanka’s Negombo Prison: سری لنکاکے نیگومبو جیل میں پرتشدد جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 25 ، تقریباً 100 افراد زخمی

جیل کے اندر دو منظم گروہوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس کے دوران جیل حکام نے امن و امان بحال کرنے کی کوشش کی۔وزیرِ انصاف نے کہا، “اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جان جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ ہمیں موقع پر جا کر تحقیقات کرنی ہوں گی، یہ جاننا ہوگا کہ واقعہ کیسے پیش آیا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

نئی دہلی:سری لنکا کے شہر نیگومبو کی جیل میں اتوار کو پیش آنے والے پرتشدد واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 25 ہو گئی ہے، جب کہ تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی میڈیا نے پیر کے روز پولیس کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔حکام کے مطابق زخمیوں کو علاج کے لیے نیگومبو جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سے متعدد کو گولیاں لگنے کے باعث شدید چوٹیں آئی ہیں۔ سری لنکا کے اخبار ڈیلی مرر کے مطابق، سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب قیدیوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر صبح کے وقت جیل کے اندر منظم حملہ کیا۔ صورتحال قابو سے باہر ہونے پر سکیورٹی اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے اور حالات پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کی۔رپورٹ کے مطابق، یہ تازہ تشدد ایسے وقت میں پیش آیا جب جیل حکام نے ہفتہ کے روز شروع ہونے والی ایک اور جھڑپ کے بعد عارضی طور پر حالات کو معمول پر لایا تھا۔

وزیرِ انصاف کا اظہارِ افسوس

سری لنکا کے وزیرِ انصاف ہرشنا نانائیکارا نے نیگومبو جیل میں پیش آنے والے واقعے پر گہرے دکھ اور حیرت کا اظہار کیا۔صحافیوں سے  بات چیت  کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ جیل ان کی وزارت کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے، اس لیے وہ اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اب صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے، لیکن اتنی بڑی تعداد میں جانوں کا ضیاع کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

دو گروہوں کے درمیان تصادم

سری لنکن میڈیا ادارے اڈا دیرانا کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ جیل کے اندر دو منظم گروہوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس کے دوران جیل حکام نے امن و امان بحال کرنے کی کوشش کی۔وزیرِ انصاف نے کہا، “اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جان جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ ہمیں موقع پر جا کر تحقیقات کرنی ہوں گی، یہ جاننا ہوگا کہ واقعہ کیسے پیش آیا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔”انہوں نے مزید کہا کہ صرف افسوس کا اظہار کافی نہیں، بلکہ اس بات کی مکمل جانچ ضروری ہے کہ واقعے کی وجوہات کیا تھیں، کہاں کوتاہی ہوئی اور اگر کسی کی غفلت سامنے آتی ہے تو اس کے مطابق اصلاحی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read