Bharat Express DD Free Dish

Russia support India in UN: بہت ہو چکے مغربی ممالک، روس نے اقوام متحدہ میں بھارت کی ویٹو پاور کی کردی حمایت

روس کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کی ہے۔ماریشس کے وزیر خارجہ دھننجے رامفل نے بھارت کی مستقل نشست کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔ پرتگال کے وزیر اعظم لوئس مونٹی نیگرو نے بھی زیادہ نمائندہ سلامتی کونسل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بھارت، برازیل اور افریقہ کو مستقل نمائندگی دینے کی حمایت کی۔ مارشل آئی لینڈز کی صدر ہلڈا ہین نے بھی جی-4 کی امیدواری کی حمایت کی۔

نئی دہلی : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں بھارت کی مستقل رکنیت کی امیدواری کی حمایت کی ہے۔ لاوروف نے سلامتی کونسل میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی نمائندگی بڑھانے کی وکالت کرتے ہوئے بھارت اور برازیل کو مستقل نشست دینے کی حمایت کی۔روس کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت طویل عرصے سے اقوام متحدہ میں اصلاحات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل جی-4 بھی حال ہی میں سلامتی کونسل میں مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں توسیع کے لیے جلد اصلاحات کا مطالبہ کر چکا ہے۔

جرمنی اور جاپان کو اضافی نشست نہیں دی جانی چاہیے

سلامتی کونسل کی تنظیم نو اور ویٹو پاور کے معاملے پر سرگئی لاوروف نے کہا کہ اصلاحات کے تحت مغربی ممالک کو مزید مستقل نشستیں نہیں دی جانی چاہئیں۔ انہوں نے خاص طور پر جرمنی اور جاپان کا ذکر کیا۔لاوروف نے کہا کہ روس ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی نمائندگی بڑھانے کے حق میں ہے اور وہ سلامتی کونسل میں برازیل اور بھارت کی مستقل رکنیت کی امیدواری کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق سلامتی کونسل کی اصلاحات میں مغربی ممالک، خاص طور پر جرمنی اور جاپان، کے لیے اضافی نشستیں شامل نہیں کی جانی چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی اصلاحاتی عمل میں عالمی جنوب، خصوصاً افریقی براعظم کی خواہشات اور مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ماریشس اور پرتگال نے بھی بھارت کی حمایت کی

روس کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کی ہے۔ماریشس کے وزیر خارجہ دھننجے رامفل نے بھارت کی مستقل نشست کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔ پرتگال کے وزیر اعظم لوئس مونٹی نیگرو نے بھی زیادہ نمائندہ سلامتی کونسل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بھارت، برازیل اور افریقہ کو مستقل نمائندگی دینے کی حمایت کی۔ مارشل آئی لینڈز کی صدر ہلڈا ہین نے بھی جی-4 کی امیدواری کی حمایت کی۔

کیا ہے سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ؟

فی الحال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 15 ارکان ہیں۔ ان میں 5 مستقل ارکان—امریکہ، چین، فرانس، روس اور برطانیہ—شامل ہیں، جن کے پاس ویٹو پاور ہے۔ اس کے علاوہ 10 غیر مستقل ارکان ہوتے ہیں، جنہیں 2 سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔سلامتی کونسل کی ساخت میں تبدیلی کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر میں ترمیم ضروری ہے، جس کے لیے جنرل اسمبلی میں دو تہائی حمایت اور اقوام متحدہ کے دو تہائی رکن ممالک کی توثیق کے ساتھ پانچوں مستقل ارکان کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read