Bharat Express DD Free Dish

Powerful Israeli strikes rock Damascus: غزہ کے بعد دمشق میں اسرائیلی درندگی جاری،وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر اور صدارتی محل کو بم سے اڑایا،اب تک 300 سے زائد ہلاک

شامی عبوری صدر احمد الشرع نے تمام اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے، لیکن دروز برادری کے کچھ رہنماؤں، جیسے شیخ حکمت الحجری، نے سیز فائر کو مسترد کرتے ہوئے شامی فورسز پر دروز کے خلاف “جنگ چھیڑنے” کا الزام لگایا۔

آج یعنی 16 جولائی 2025 کو اسرائیل نے دمشق میں شدید فضائی حملے کیے، جن میں شامی وزارت دفاع کا ہیڈکوارٹر اور صدارتی محل کے قریب ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے شام کے جنوب مغربی صوبے سویدہ میں شامی فورسز اور دروز ملیشیا کے درمیان جاری شدید جھڑپوں کے تناظر میں کیے گئے۔ شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق (SOHR) کے مطابق، اتوار سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں اب تک 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 69 دروز جنگجو، 40 شہری، اور متعدد شامی فوجی شامل ہیں۔ اسرائیل نے ان حملوں کو دروز برادری کی حفاظت اور سویدہ میں شامی فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے، جبکہ شام نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی “صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔اسی دوران  ایک نازک سیز فائر کا اعلان کیا گیا، لیکن اس کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں، اور شہر میں بجلی، پانی، اور مواصلاتی نظام شدید متاثر ہوا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے دروز برادری کو تحفظ فراہم کرنے اور شام کے نئے اسلام پسند قیادت والے نظام کو خطے میں فوجی خطرات بڑھانے سے روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج سویدہ میں شامی فورسز کے انخلا تک “طاقت کے ساتھ” کارروائیاں جاری رکھے گی۔ وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے شامی نظام کو “انتہا پسند اسلامی رژیم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی سرحد کے قریب فوجی موجودگی یا دروز کے خلاف کسی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔ اسرائیل نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ شام کے جنوبی علاقے کو غیر فوجی زون کے طور پر برقرار رکھنا چاہتا ہے، اور اس نے حال ہی میں گولان کی پہاڑیوں کے قریب اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔

 وہیں شامی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی، انہیں “شام کی خودمختاری پر حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ شامی وزارت صحت کے مطابق، دمشق میں حملوں سے کم از کم تین افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے، جبکہ وزارت دفاع نے سویدہ میں فورسز کی تعیناتی کو “امن بحال کرنے” کی کوشش قرار دیا۔ شامی عبوری صدر احمد الشرع نے تمام اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے، لیکن دروز برادری کے کچھ رہنماؤں، جیسے شیخ حکمت الحجری، نے سیز فائر کو مسترد کرتے ہوئے شامی فورسز پر دروز کے خلاف “جنگ چھیڑنے” کا الزام لگایا۔ شامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ دروز ملیشیا نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد فوج کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔

آپ کو بتادیں کہ دمشق میں اسرائیلی حملوں سے وزارت دفاع کی عمارت کے چار فلور تباہ ہوئے، اور صدارتی محل کے قریب ایک ہدف کو بھی نقصان پہنچا۔ سویدہ میں جھڑپوں سے شہری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جہاں گھروں اور دکانوں کو لوٹا اور نذر آتش کیا گیا۔ ایک مقامی رہائشی، فادی حمدان، نے بتایا کہ شہر میں بجلی، پانی، اور انٹرنیٹ کی سہولیات منقطع ہیں، جس سے شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ SOHR کے مطابق، 169 سے 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں شہری اور فوجی دونوں شامل ہیں۔ دروز برادری کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے ملحقہ گولان کی پہاڑیوں میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں دروز شہری اپنی برادری کی حمایت کے لیے سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے علاقائی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read