پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں دھماکہ
اسلام آباد: پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں بدھ کے روز ایک قافلے کو نشانہ بناتے ہوئے سڑک کے کنارے ایک طاقتور بم دھماکے میں صوبائی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سمیت کم از کم چار افراد ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہو گئے۔
ڈبل کیبن گاڑی پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ
مقامی پولیس نے بتایا کہ دھماکہ ضلع باجور میں نواگئی روڈ کے پاس پھاٹک میلہ کے علاقے کے قریب ہوا، جہاں نواگئی کے اسسٹنٹ کمشنر فیصل سلطان سمیت دو اعلیٰ سرکاری افسران کو لے جا رہی ڈبل کیبن گاڑی پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا۔ دھماکے میں دونوں افسران اور ان کے ساتھ موجود دو پولیس اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک
ایک افسر نے خبر رساں ایجنسی ژنہوا کو بتایا کہ بم سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا اور جب قافلہ مقامی میلے کے میدان سے گزر رہا تھا تب دور سے دھماکہ کیا گیا۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جنہیں علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خار لے جایا گیا ہے۔
گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری
افسر نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ریسکیو ٹیمیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے۔ اس مہلک حملے میں ملوث افراد کا سراغ لگانے اور ان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
28 جون کو 13 فوجی ہوئے تھے ہلاک
بتا دیں کہ اس سے قبل، 28 جون کو، پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں ایک دہشت گردانہ حملے میں کم از کم 13 فوجی ہلاک اور 19 شہریوں سمیت 29 دیگر زخمی ہوئے تھے۔
بم ڈسپوزل ڈیوٹی پر تعینات آرمی پر ہوا حملہ
شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی کی کھادی مارکیٹ میں بم ڈسپوزل ڈیوٹی پر تعینات آرمی یونٹ پر خودکش حملہ آور نے حملہ کر کیا، جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی بم ڈسپوزل یونٹ کی گاڑی سے ٹکرا دی۔ سیکورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ سے 13 فوجی ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔ علاقے میں فائرنگ سے خواتین اور بچوں سمیت 19 شہری زخمی بھی ہو گئے۔ کالعدم دہشت گرد گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اسود الحرب نامی گروپ نے حملے کی ذمہ داری لی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


