Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

"دنیا دیکھ رہی ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی یہاں آ رہے ہیں۔ پورا ملک اور شہر پرجوش ہے اور یہاں یو ایس انڈیا بزنس کونسل کے چیمبر میں ہم اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں

آسٹریلیا میں خالصتانی عناصر کی جانب سے متعدد مقدس مقامات کی بے حرمتی اور خالصتانیوں کے درمیان جھڑپوں نے اہم خدشات کو جنم دیا ہے

پی ایم مودی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دہل نے کہا کہ ہندوستان اورنیپال کے تعلقات "پرانے اور کثیر جہتی" ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپال پی ایم مودی کی قیادت میں ہندوستان کی معیشت اور سیاسی منظر نامے کی ترقی کو دیکھ کر خوش ہے

پی ایم مودی نے پرچنڈ کی موجودگی میں کہا کہ "ہم اپنے تعلقات کو ہمالیہ کی بلندیوں تک لے جانے کی کوشش جاری رکھیں گے اور اس جذبے سے ہم تمام مسائل کو حل کریں گے چاہے وہ سرحد سے متعلق ہوں یا کوئی اور مسئلہ

ووٹروں نے اپنے مفادات کی مؤثر نمائندگی کرنے کی ان کی صلاحیت پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ این ڈی پی کے موجودہ ایم ایل اے جسویر دیول ایڈمنٹن میڈوز سے دوبارہ منتخب ہوئے ہیں۔

فن لینڈ کے وزیر خارجہ پیکا ہاویسٹو نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ فن لینڈ ہندوستان کی اہمیت کو ان ممالک میں سے ایک کے طور پر تسلیم کرتا ہے جہاں اقتصادی ترقی اور مستقبل کے چیلنجوں کے لئے اس کے ردعمل کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔

سکریٹری (مشرق) سوربھ کمار نے آج ویتنام کے نیشنل باؤنڈری کمیشن کے وائس چیئرمین ترنک ڈک ہے سے ملاقات کی، جس میں دفاعی، تحفظ اور سمندری تعاون سمیت دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کینڈا میں مقیم پنجابی کمیونٹی ان دنوں ایک بڑی کامیابی کا جشن منا رہی ہے کیونکہ البرٹا میں ہونے والے حالیہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں چار پنجابی امیدواروں نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ کل 15 پنجابی امیدواروں میں سے جنہوں نے کیلگری اور ایڈمنٹن میں مقابلہ کیا، ان چاروں نے ووٹروں کا اعتماد اور حمایت حاصل کی ہے

نیپال کے وزیر خارجہ نارائن پرساد سود نے  کہا کہ ان کے ملک کے ہندوستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور ان کے وزیر اعظم پشپ کمل دہل چوتھی بار ملک کا دورہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد یہ پہلا دورہ ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔

دونوں رہنماوں نے نیپال اور بھارت کے باہمی مفادات کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے علاوہ سیکورٹی کے امور پر بھی گفتگو کی گئی ۔ دونوں ملکوں کی سرحدیں کیسے محفوظ رہیں اس کیلئے اپنی حکمت عملی  پر از سر نو غور کرنے کی کوشش کی گئی ۔