Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

یہ لانچ سری لنکا اور ماریشس جانے والے ہندوستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا سفر کرنے والے ماریشیا کے شہریوں کے لئے یو پی آئی سیٹلمنٹ خدمات کی دستیابی کو قابل بنائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد میں بننے والی حکومت میں آزاد ارکان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس وقت تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔

کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستانی جمہوریت کی حمایت میں ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے چیئرمین مائیکل میک کول، رینکنگ ممبر گریگوری میکس اور دیگر ممتاز قانون سازوں کے حالیہ سخت بیانات کو دیکھتے ہوئے ہم بائیڈن انتظامیہ اور کانگریس پر زور دیتے ہیں کہ وہ ووٹوں کی گنتی کی بے ضابطگیوں اور بیلٹ ٹیمپرنگ کے سخت خدشات پر غور کریں۔

ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے۔ دھاندلی، چھٹپٹ تشدد اور موبائل انٹرنیٹ کی بندش کے الزامات کے درمیان جمعرات کے روز ملک میں انتخابات ہوئے۔ پاکستان میں فوج کو بہت طاقتور سمجھا جاتا ہے، جس نے گزشتہ 75 سالوں میں سے نصف سے زائد عرصے تک حکومت کی ہے۔

ایڈووکیٹ عمیر نیازی نے بتایا بانی پی ٹی آئی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قوم نظریے اور جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے، اس الیکشن میں 1970 سے زیادہ لوگ باہر آئے ہیں۔عمیر نیازی نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جن حلقوں میں نتائج تبدیل کیے گئے ان کے امیدوار نکلیں اور پُرامن احتجاج کریں۔

پڑوسی ملک پاکستان کے عام انتخابات میں کسی بھی ایک پارٹی کو مکمل اکثریت حاصل نہ ہونے پر جوڑ توڑ اور سودے بازی کا بازار گرم ہے ۔ ہر پارٹی اپنی حکومت بنانے اور اپنے ساتھ کسی دوسرے کو ملا کر وزارت عظمیٰ پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ لگی ہے۔

خیبر پختونخوا میں نومنتخب ارکان سے رابطے کی ذمہ داری علی امین گنڈاپور کے حوالے کی گئی جبکہ پنجاب میں نومنتخب ارکان سے رابطوں کی ذمہ داری میاں اسلم اقبال کے سپرد کی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف نے وفاق میں حکومت سازی کے لیے ارکان اسمبلی سے رابطوں کی ذمے داری بیرسٹر عمیر نیازی کے سپرد کر دی۔

رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 100 امیدواروں میں سے زیادہ تر کامیاب ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے ہفتہ (10 فروری) کو مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جیت کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا

گوہر خان نے کہا کہ ہمارا پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں 150 نشستیں جیت رہی ہے۔ ہم مرکز میں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے