بڈاپیسٹ: ہنگری کی سیاست میں ایک بڑا اور تاریخی موڑ اس وقت آیا جب طویل عرصے سے برسراقتدار وزیراعظم وکٹر اوربان نے پارلیمانی انتخابات میں شکست تسلیم کرلی۔ ابتدائی سرکاری نتائج کے مطابق اپوزیشن رہنما پیٹر ماگیار کی قیادت میں ٹیزا پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کرتے ہوئے ملک میں 16 سالہ سیاسی دور کا خاتمہ کر دیا۔ جزوی نتائج کے مطابق، تقریباً 97 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ٹیزا پارٹی نے 199 رکنی پارلیمنٹ میں 138 نشستیں حاصل کیں، جو کہ کل ووٹوں کا 53.6 فیصد بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اوربان کی جماعت فیدیز پارٹی صرف 55 نشستوں تک محدود رہ گئی اور اسے 37.8 فیصد ووٹ ملے، جو اس کی گزشتہ کارکردگی کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔
وکٹر اوربان کے 16 سالہ اقتدار کا اختتام
وکٹر اوربان 2010 سے مسلسل اقتدار میں تھے اور انہیں ہنگری کی سیاست کا ایک طاقتور اور متنازع چہرہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کے دور حکومت میں قوم پرستانہ پالیسیوں، میڈیا پر کنٹرول اور یورپی یونین کے ساتھ کشیدگی جیسے مسائل نمایاں رہے۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد اوربان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی جماعت اب حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتیجہ ہنگری کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی دھچکوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
جیت کے بعد پیٹر ماگیار کا خطاب
دارالحکومت بڈاپیسٹ میں ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے پیٹر ماگیار نے کہا کہ ان کی حکومت ہنگری کو دوبارہ یورپی دھارے میں شامل کرنے اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر توجہ دے گی۔ انہوں نے کہا ’’ہنگری ایک بار پھر یورپ میں اپنی مضبوط جگہ بنائے گا اور یورپی اقدار کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرے گا۔‘‘ ماگیار نے اعلان کیا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کے تحت سب سے پہلے پولینڈ اور آسٹریا کا دورہ کریں گے، جس کے بعد وہ برسلز جائیں گے تاکہ یورپی یونین کے رکے ہوئے فنڈز کی بحالی کے لیے بات چیت کی جاسکے۔ پیٹر ماگیار نے اپنی تقریر میں ادارہ جاتی اصلاحات کا بھی وعدہ کیا اور کہا کہ ان کی حکومت ہنگری میں جمہوری نظام کو مضبوط بنائے گی۔ انہوں نے یورپی پبلک پراسیکیوٹر آفس میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شفافیت اور احتساب کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا ’’ہم چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو بحال کریں گے اور ملک میں جمہوریت کو مستحکم کریں گے۔‘‘
پرانے عہدیداروں سے استعفے کا مطالبہ
ماگیار نے صدر تاماس شولیوک سمیت ان تمام اعلیٰ عہدیداروں سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا جو اوربان کے دور میں تعینات ہوئے تھے۔ انہوں نے ان پر سیاسی جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اہم اداروں جیسے عدلیہ، آڈٹ آفس، مسابقتی اتھارٹی اور میڈیا ریگولیٹر کے سربراہان کو بھی فوری طور پر عہدہ چھوڑ دینا چاہیے تاکہ نئی حکومت شفاف طریقے سے کام کر سکے۔ اپنی تقریر کے اختتام پر پیٹر ماگیار نے اقتدار کی پرامن منتقلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عبوری دور میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے موجودہ قیادت کو یقین دلایا کہ وہ قومی مفاد میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ انتخابی نتیجہ نہ صرف ہنگری بلکہ پورے یورپ کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس سے ملک کی خارجہ پالیسی اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ مجموعی طور پر، پیٹر ماگیار کی کامیابی کو ہنگری میں ایک نئے سیاسی دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں جمہوری اقدار، شفافیت اور یورپی اتحاد کے ساتھ قریبی تعلقات کو ترجیح دی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



