Bharat Express DD Free Dish

Peter Magyar

نئے وزیر اعظم کے حالیہ بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہنگری کی نئی حکومت بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر زور دے رہی ہے، چاہے اس کے نتیجے میں عالمی سطح کے طاقتورلیڈروں کے خلاف کارروائی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

ہنگری میں حالیہ انتخابات کو ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ٹیزا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے 16 سال سے برسرِ اقتدار فیدیز پارٹی کو شکست دے دی۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 97 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ٹیزا پارٹی نے 199 رکنی پارلیمنٹ میں 138 نشستیں حاصل کیں، جو کل ووٹوں کا تقریباً 53.6 فیصد بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہنگری میں اس سیاسی تبدیلی سے یورپی اتحاد کو تقویت ملے گی اور خطے میں ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہوگا، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ انتخابی نتیجہ نہ صرف ہنگری بلکہ پورے یورپ کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس سے ملک کی خارجہ پالیسی اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ پیٹر ماگیار کی کامیابی کو ہنگری میں ایک نئے سیاسی دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔