اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرِس نے دو ریاستی حل کے نفاذ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “غزہ کی تباہی، جو پوری دنیا کی نظروں کے سامنے پیش آئی، کسی بھی صورت جائز نہیں ٹھہرتی۔” انہوں نے کہا کہ اگرچہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کی مذمت ضروری ہے، لیکن اس کے بعد غزہ میں جو وحشت ناک مناظر دیکھنے کو ملے، جن میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت، خوراک اور پانی کی شدید قلت، بنیادی سہولیات کی تباہی اور لاکھوں افراد کی جبری بے دخلی شامل ہے، وہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ گوٹیرِس نے فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی آبادکاری، گھروں کی مسماری، اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو دو ریاستی حل کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
سیکریٹری جنرل نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی توسیع پسندی اور غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں کیونکہ یہ دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق فلسطین کے علاقوں پر بتدریج قبضہ، اور لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنا ایک ایسے مستقبل کی راہ ہموار کر رہا ہے جہاں امن کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔
At a high-level conference on the two-State solution, @antonioguterres has stressed that the Israeli-Palestinian conflict is not inevitable:
”It can be resolved.
That demands political will and courageous leadership.
And it demands truth.”https://t.co/esnOq0RQVb pic.twitter.com/3EmXD7z3Lv— United Nations (@UN) July 28, 2025
انٹونیو گوٹیرِس نے عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ صرف بیانات پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس دو ریاستی حل کی طرف ایک عملی پیش رفت ہونی چاہیے، نہ کہ محض رسمی گفتگو۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین دو علیحدہ، خودمختار ریاستوں کی حیثیت سے، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر، ایک پرامن بقائے باہمی کی طرف قدم بڑھائیں—یہی واحد قابل قبول اور پائیدار حل ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

