Bharat Express DD Free Dish

Measles Outbreak in Bangladesh: بنگلہ دیش میں خسرہ کا قہر جاری، مزید 3 معصوم بچوں کی ہوئی موت، اب تک اتنے بچوں کی جا چکی ہے جان

ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق 15 مارچ سے اب تک خسرہ جیسی علامات میں مبتلا 57,902 بچوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ ان میں سے 53,722 بچوں کی صحت بہتر ہونے کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں خسرہ اور اس سے مشابہ علامات کے باعث بچوں کی اموات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران (اتوار سے پیر تک) خسرہ جیسی علامات کے سبب مزید تین بچوں کی موت ہو گئی، جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 588 تک پہنچ گئی ہے۔

مشتبہ کیسز میں مسلسل اضافہ

مقامی میڈیا ادارے کے مطابق، محکمہ صحت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کی جانب سے جاری کردہ ہیلتھ بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1,134 نئے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی 15 مارچ سے اب تک مشتبہ مریضوں کی مجموعی تعداد 72,070 ہو گئی ہے۔

نگرانی اور ویکسینیشن مہم تیز

صحت حکام کا کہنا ہے کہ بیماری پر قابو پانے اور بچوں کے تحفظ کے لیے نگرانی، ویکسینیشن اور علاج سے متعلق اقدامات میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں طبی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

588 اموات میں 90 خسرے سے منسلک

رپورٹس کے مطابق اب تک 90 بچوں کی موت سیدھے خسرے کے باعث ہوئی، جبکہ 498 بچوں کی جان خسرے سے مشابہ علامات کی وجہ سے گئی ہے۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کی صبح آٹھ بجے تک کے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 45 نئے مشتبہ کیسز سامنے آئے، جس کے بعد ان کیسز کی مجموعی تعداد 9,094 تک پہنچ گئی ہے۔

ہزاروں بچے اسپتالوں میں زیرِ علاج

ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق 15 مارچ سے اب تک خسرہ جیسی علامات میں مبتلا 57,902 بچوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ ان میں سے 53,722 بچوں کی صحت بہتر ہونے کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ محکمہ صحت کے بلیٹن کے مطابق حالیہ مشتبہ اموات سلہیٹ، میمن سنگھ اور کھلنا اضلاع میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

صحت کے نظام پر سوالات

خسرے کے بڑھتے ہوئے کیسز نے بنگلہ دیش کے صحت کے نظام اور حفاظتی ٹیکہ کاری کے انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 30 اپریل کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عبوری حکومت کی پالیسیوں کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق خسرے نے وبائی شکل اس لیے اختیار کی کیونکہ مبینہ طور پر حکومت نے یونیسیف کے ذریعے ویکسین کی خریداری روک کر اس کی جگہ اوپن ٹینڈر نظام اپنانے کا فیصلہ کیا، جس کے بارے میں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ اس سے معمول کی ویکسینیشن متاثر ہو سکتی ہے اور وبا پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ڈینگی سے نمٹنے کی تیاری بھی شروع

اسی پس منظر میں حکومت نے آنے والے مانسون سیزن کے دوران ڈینگی سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے نمٹنے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔ وزیر صحت سردار محمد سخاوت حسین نے پیر کے روز کہا کہ حکومت ملک بھر کے ضلع ہیلتھ کمپلیکسز میں ڈینگی کارنر قائم کر رہی ہے تاکہ ممکنہ مریضوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت طبی عملے کو خصوصی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ ڈینگی اور دیگر وبائی امراض سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read