میکسیکو کی دارالحکومت میکسیکو سٹی ان دنوں بڑے احتجاجی مظاہروں کی گواہ بن رہی ہے۔ ہزاروں لوگ، خاص طور پر جنریشن زی، حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ صدر کلاؤڈیا شنبام کی حکومت جرائم کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور بدعنوانی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
مَنجو کا قتل
ان مظاہروں کی شروعات میئر کارلوس منجو کے قتل کے بعد ہوئی۔ منجو طویل عرصے سے منشیات اسمگلروں کے خلاف مہم چلا رہے تھے اور کھل کر کارٹیلز کو چیلنج کر رہے تھے، لیکن حال ہی میں ان کا قتل کر دیا گیا، جس سے پورے ملک میں صدمے کی لہر دوڑ گئی۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ حکومت کی ناکامی کی علامت ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے متحد ہو کر اپنی آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔
نوجوان کیا کہتے ہیں؟
سڑکوں پر اُترے نوجوانوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ بدعنوانی، جرائم اور انصاف کے سست عمل سے سخت مایوس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر مجرموں کو سزا سے چھوٹ مل جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تشدد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ریلی میں شامل کئی نوجوانوں نے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں اور حکومت کو جوابدہ بنانا چاہتے ہیں۔
صدر کا موقف کیا ہے؟
وہیں صدر شنباؤم نے ان مظاہروں کو مکمل طور پر سیاسی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دائیں بازو کی جماعتیں ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سوشل میڈیا پر چلائی جا رہی مہم دراصل بوٹس یعنی جعلی اکاؤنٹس کی مدد سے پھیلائی جا رہی ہے۔
کئی مقامات پر بگڑتے حالات
احتجاج کے دوران کئی جگہ حالات بگڑ گئے۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے نیشنل پیلس کے باہر لگے حفاظتی بیریئر کو نقصان پہنچایا۔ چونکہ نیشنل پیلس صدر کی سرکاری رہائشگاہ ہے، اس لیے سیکورٹی فورسز نے مزید سخت رویہ اختیار کیا۔ اس کے باوجود بھیڑ وہیں کھڑی رہی اور بدعنوانی و تشدد کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی۔
Gen Z کی آواز
جنریشن زی کی یہ تحریک صرف منجو کے قتل کے خلاف احتجاج نہیں بلکہ پورے سسٹم کی ناکامی کے خلاف غصے کی آواز ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان اب تبدیلی چاہتے ہیں اور اپنی طاقت دکھانے کے لیے سڑکوں پر آنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

