Bharat Express DD Free Dish

Israeli Media Claims Mojtaba Khamenei’s Death: ’’کسی بھی وقت آ سکتی ہے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی موت کی خبر…‘‘، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

مجتبیٰ خامنہ ای کو تلاش کرنے کا طریقہ اب الیکٹرک سگنل روکنے یا تکنیکی نگرانی تک محدود نہیں ہے بلکہ انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انسانی ذرائع سے خفیہ معلومات حاصل کرنا جاسوسی کا ایک پرانا، سست اور خطرناک طریقہ ہے۔

تہران: مجتبی خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر مقرر کیے جانے کے بعد سے کسی عوامی مقام یا تقریب میں نہیں دیکھا گیا۔ اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹ چینل 14 نے دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور ان کی موت کی خبر کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری 2026 کو ایران پر کیے گئے حملے میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا۔ ایران طویل عرصے سے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق سوالات اٹھانے والی خبروں کو غلط قرار دیتا رہا ہے، لیکن اسرائیلی میڈیا کے تازہ دعووں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کی حالت اب بھی تشویش ناک ہے اور انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

ایرانی ذرائع کے حوالے سے اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

اسرائیلی میڈیا لیٹ ’چینل 14‘ نے ایران کے اندر موجود ذرائع کے حوالے سے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں یہ دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں ایک ایرانی خبر رساں ادارے کے دعووں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں صدر مسعود پزشکیان کی حکومت کے قریبی ایک ذریعے کا حوالہ دیا گیا تھا، جس نے بھی اسی نوعیت کے دعوے کیے تھے۔ اسرائیلی ادارے نے دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو سپریم لیڈر کی رہائش گاہ پر امریکی حملے کے بعد سے کسی بھی کابینہ رکن سے ملاقات نہیں کر سکے ہیں۔

کسی بھی وقت ان کی شہادت کی خبر آ سکتی ہے

ذریعے نے کہا کہ کسی بھی وقت ان کی موت ہو سکتی ہے اور ان کی موجودہ حالت کے بارے میں صرف ایران کی اعلیٰ قیادت کو ہی معلومات ہیں۔ صدر پزشکیان کی کابینہ کے ایک قریبی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جسمانی حالت خراب تھی۔ ذریعے نے کہا، ’’اگر ہمیں جلد ہی ان کی شہادت کی خبر مل جائے تو ہمیں حیرت نہیں ہوگی۔‘‘

تقریباً 150 دن سے فون اور دیگر آلات سے دور

اس سے قبل ایسی رپورٹس بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ اسرائیلی اور امریکی خفیہ ادارے، موساد اور سی آئی اے، مجتبیٰ خامنہ ای کی تلاش میں ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے برطانوی اخبار ’دی ٹائمز آف لندن‘ کی رواں ہفتے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تقریباً 150 دن سے نہ تو فون استعمال کیا ہے اور نہ ہی لیپ ٹاپ، ریڈیو یا ایسی کوئی دوسری چیز استعمال کی ہے جس سے الیکٹرک یا ڈیجیٹل سگنل خارج ہو سکتا ہو۔

زیر زمین پناہ لینے کا امکان

خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی زیر زمین مقام پر چھپے ہوئے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جس فضائی حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہوئی تھی، اسی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے اور ان کا چہرہ متاثر ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ کوئی امریکی جاسوسی سیٹلائٹ انہیں شناخت کر سکتا ہے۔

خامنہ ای کا سراغ لگانے کے لیے سائبر کارروائیاں

مجتبیٰ خامنہ ای کے والد کا سراغ لگانے کے لیے اسرائیل اور امریکہ نے تقریباً ہر ممکن سائبر طریقہ استعمال کیا تھا۔ تہران میں ٹریفک کیمروں کو مبینہ طور پر ہیک کیا گیا تاکہ سپریم لیڈر کے محافظوں اور قریبی لوگوں کے زیر استعمال گاڑیوں کی شناخت کی جا سکے۔ امریکہ کی قومی سلامتی ایجنسی اور اس کی اسرائیلی ہم منصب یونٹ 8200 کے درمیان رابطے سے تیار کی گئی اس تکنیک کے ذریعے یہ معلوم کیا گیا تھا کہ اس روز علی خامنہ ای اور ان کے آس پاس موجود اعلیٰ فوجی اور خفیہ اداروں کے افسران ٹھیک کس مقام پر موجود تھے۔ اس حملے میں وہ سب مارے گئے۔

اب انسانی ذرائع سے تلاش جاری ہونے کا دعویٰ

مجتبیٰ خامنہ ای کو تلاش کرنے کا طریقہ اب الیکٹرک سگنل روکنے یا تکنیکی نگرانی تک محدود نہیں ہے بلکہ انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انسانی ذرائع سے خفیہ معلومات حاصل کرنا جاسوسی کا ایک پرانا، سست اور خطرناک طریقہ ہے۔ اس میں لوگوں کو اپنی آنکھوں سے چیزیں دیکھنا، معلومات کو آگے پہنچانا اور خود بھی زندہ رہنا ہوتا ہے۔

کیا مجتبیٰ کی پہلے ہی ہو چکی ہے موت؟

خفیہ اداروں سے وابستہ بعض افراد کا خیال ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای شاید پہلے ہی ہلاک ہو چکے ہیں اور اسلامی انقلابی گارڈ کور امریکیوں کے خلاف جنگ کو درست ثابت کرنے کے لیے سپریم لیڈر کے زندہ ہونے کا ڈرامہ کر رہی ہے۔ اگر موساد اور سی آئی اے اس کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای کے مقام کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ معاملہ سیاسی میدان میں داخل ہو جائے گا۔ اسرائیل اور امریکہ میں سلامتی کے ذمہ دار اعلیٰ حکام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس معلومات کے ساتھ کیا کیا جائے۔ اس مرحلے پر سوال صرف کارروائی سے متعلق نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک تزویراتی سوال بن جائے گا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read