نئی دہلی: ایران نے اسرائیل کے بعد امریکہ کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایران نے خطے میں موجود امریکہ کے سات فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ اسرائیل کو شامل کیا جائے تو آٹھ ممالک اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، اردن، بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر پر حملہ
بحرین کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ جزیرہ نما ریاست میں واقع امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ دارالحکومت منامہ میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیرون ملک سے کیے گئے اس حملے کو ملک کی خودمختاری اور سلامتی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے اور ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں سائرن
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ملک کو نشانہ بنانے والی کئی میزائلیں فضائی حدود میں داخل ہوئیں۔ دوحہ میں واقع العدید ایئر بیس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ فضائی حدود بھی معطل کر دی گئی ہے۔ کویت میں بھی سائرن بجنے اور دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات ہیں، جہاں امریکی فوج کا مرکزی اڈہ قائم ہے۔ متحدہ عرب امارات میں واقع الظفرہ ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ابوظہبی میں کئی دھماکوں کی خبر ہے اور ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے، جبکہ دبئی میں بھی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔ اماراتی حکام نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ان حملوں کا جواب دیں گے۔
عراق میں جانی نقصان
عراق کے جنوب میں واقع جرف الصخر کے علاقے میں فضائی حملے کے بعد کم از کم چار دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق دو عراقی جنگجو ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے ہیں۔ سرچ آپریشن جاری ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، اردن، کویت اور عراق سمیت متعدد ممالک اس بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔ برطانیہ نے بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔ موجودہ صورتحال نے نہ صرف عسکری بلکہ فضائی اور سفری نظام کو بھی شدید متاثر کیا ہے، اور خطہ ایک بڑے فوجی تصادم کے دہانے پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

