مشرقِ وسطیٰ میں بارود کی بو ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان زبانی جنگ اب براہِ راست “تیل اور تباہی” کے موڑ پر آ کر کھڑی ہو گئی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سخت لہجے میں امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے تیل یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ذرا سا بھی نقصان پہنچا تو اس کے نتائج امریکہ کو بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایران کی فوج ان تمام مقامات کو نشانہ بنائے گی جہاں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری ہے یا جن پر ان کی ملکیت ہے۔
یہ کشیدگی اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ ڈالی گئی تو امریکہ ایران کے اسٹریٹجک آئل ٹرمینلز کو تباہ کر دے گا۔
ایران کی براہِ راست دھمکی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بین الاقوامی انٹرویو میں کہا کہ ہماری افواج صرف دفاع کے لیے نہیں بیٹھی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے توانائی کے منصوبوں پر حملہ ہوا تو وہ پورے خطے میں موجود ان توانائی مراکز کو نشانہ بنائیں گے جو امریکی کمپنیوں سے وابستہ ہیں۔
یہی نہیں، ایران کی اہم فوجی کمان خاتم الانبیاء کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے کہا، “امریکی مفادات سے جڑے ہر تیل اور اقتصادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے گا اور اسے راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا جائے گا۔” اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اب کسی بھی بڑے حملے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے۔
یو اے ای کنکشن
قابلِ ذکر ہے کہ حال ہی میں ایران کے جنوبی اسٹریٹجک آئل ٹرمینل، خارگ جزیرے پر حملہ ہوا تھا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ متحدہ عرب امارات کے دو مقامات سے انجام دیا گیا۔ عراقچی نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کے لیے گنجان آباد علاقوں کا استعمال آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا، “ہم جوابی کارروائی ضرور کریں گے، لیکن ہماری کوشش ہوتی ہے کہ عام شہریوں اور آبادی والے علاقوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ تاہم دشمنوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری برداشت کی بھی ایک حد ہے۔” البتہ ایک قدرے اطمینان کی بات یہ ہے کہ خارگ جزیرے سے تیل کی برآمدات اب بھی جاری ہیں۔ بوشہر صوبے کے حکام کے مطابق فوجی تنصیبات اور ہوائی اڈے کو کچھ نقصان ضرور پہنچا ہے، لیکن تجارتی سرگرمیاں بند نہیں ہوئی ہیں۔
بدلے کی آگ کیوں بھڑک رہی ہے؟
اس پوری کشیدگی کی جڑیں 28 فروری کے اس واقعے میں ہیں جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس روز اسرائیل اور امریکہ نے مل کر تہران سمیت ایران کے کئی شہروں پر شدید حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور کئی سینئر فوجی کمانڈروں سمیت تقریباً 1300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے ایران بدلے کی تیاری میں ہے اور مسلسل میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی اور امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
