نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اب صرف میزائلوں اور فوجی طاقت تک محدود نہیں رہی بلکہ اب ایک نئی محاذ آرائی بجلی کے شعبے میں سامنے آ رہی ہے۔ ایران نے پیر 23 مارچ 2026 کو واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اس کے پاور پلانٹس پر حملہ کرتا ہے تو وہ پورے خطے میں ان بجلی گھروں کو نشانہ بنائے گا جو امریکی فوجی اڈوں کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو 48 گھنٹوں کی سخت ڈیڈ لائن دی ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت کم نہیں کرتا تو امریکی فوج اس کے بجلی کے ڈھانچے پر حملہ کر سکتی ہے۔ یہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب ہے، جس کے باعث پورے خطے میں بے یقینی اور خوف کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
ایران کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر اس کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھی اسی سطح پر جواب دے گا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ نہ صرف “قابض حکومت” بلکہ وہ تمام علاقائی ممالک بھی نشانے پر ہوں گے جو امریکی فوجی اڈوں کو بجلی فراہم کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان اقتصادی اور صنعتی تنصیبات کو بھی ہدف بنایا جائے گا جن میں امریکی مفادات شامل ہیں۔تہران کا یہ مؤقف محض ایک فوجی دھمکی نہیں بلکہ پورے خلیجی خطے کے لیے ایک سنگین انتباہ سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک میں بجلی کے نظام کے ساتھ سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس بھی جڑے ہوتے ہیں، اس لیے اگر بجلی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس سے پانی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
ایران نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اس پر اسپتالوں، امدادی مراکز اور اسکولوں پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، لیکن اس نے ان کا جواب اسی نوعیت میں نہیں دیا۔ تاہم اگر بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھی اسی انداز میں جواب دے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پہلے ہی جاری تنازع کے باعث توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہو چکی ہے، جس سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے شروع ہوئے تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور عام صارفین پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نہایت حساس موڑ پر کھڑا ہے، جہاں آنے والے چند گھنٹے یہ طے کریں گے کہ معاملہ سفارت کاری کی طرف بڑھتا ہے یا ایک نئی اور خطرناک “توانائی کی جنگ” کا آغاز ہوتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



