Bharat Express DD Free Dish

India Skips UNGA Vote on Afghanistan: ہندوستان نے افغانستان پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد پر ووٹنگ سے کیا پرہیز، دہشت گردی کی روک تھام پر دیا زور

اس قرارداد میں، جس کے حق میں 116 ووٹ آئے اور 12 ممالک غیر حاضر رہے، طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جابرانہ پالیسیوں، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کو متاثر کرنے والی پالیسیوں کو روکیں۔

ہندوستان نے 8 جولائی کو افغانستان کے بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد سے کنارہ کشی اختیار کی اور عالمی برادری پر سختی سے زور دیا کہ وہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیموں کو ان کے علاقائی اسپانسرز کے ساتھ افغان سرزمین کو پرتشدد مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکے۔

اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے پی ہریش نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے نامزد کردہ اداروں اور افراد بشمول القاعدہ، داعش، لشکر طیبہ، جی ای ایم اور ان کے علاقائی اسپانسرز کو افغان سرزمین کا استحصال کرنے سے روکنا چاہیے۔‘‘

اس قرارداد میں، جس کے حق میں 116 ووٹ آئے اور 12 ممالک غیر حاضر رہے، طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جابرانہ پالیسیوں، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کو متاثر کرنے والی پالیسیوں کو روکیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ وہیں ہندوستان نے قرارداد کی حد سے زیادہ تنگ توجہ کے بارے میں خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر ووٹنگ سے پرہیز کیا۔

افغانستان کے ساتھ ہندوستان کے سفارتی تعلقات میں آئی ہے بہتری

پی ہریش نے طالبان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم نہ کرنے کے باوجود افغانستان کے ساتھ ہندوستان کے جاری سفارتی تعاملات پر روشنی ڈالی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے مئی میں افغان کارگذار وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ اس دوران ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف افغان حکومت کے موقف کا خیر مقدم کیا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان نے 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرنے پر افغان حکومت کی تعریف کی تھی، جو کہ لشکر طیبہ کی پراکسی مزاحمتی محاذ کے ذریعے کیا گیا۔ پی ہریش نے انسانی امداد، بشمول خوراک، طبی سامان اور تعلیمی مدد کے ساتھ ساتھ افغان آبادی کی مدد کرنے کے لیے صلاحیت سازی کے اقدامات کے لیے ہندوستان کے عزم پر زور دیا۔

وہیں اس قرارداد کے اسپانسر جرمنی نے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ جرمن ایلچی نے کہا کہ ’’طالبان کے احکامات کے نتیجے میں خواتین کے حقوق تقریباً مٹ گئے ہیں۔‘‘ اس دوران امریکہ نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمت عملی غیر پائیدار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read