یوکرینی صدر زیلنسکی نے روسی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’پوتن سمجھتے ہیں کہ وہ یوکرین پر مکمل قبضہ نہیں کر سکتے۔ وہ کبھی کبھار ہمارے شراکت داروں کے ساتھ ایسے پیغامات شیئر کرتے ہیں جو دراصل ان کی حقیقی سوچ نہیں ہوتے۔ انہیں بھاری نقصان ہو رہا ہے اور میدانِ جنگ میں ان کے پاس مناسب تربیت یافتہ افراد کی کمی ہے۔ وہ ایسے راستے کی تلاش میں ہیں جو جیت جیسا دکھائی دے۔ اسی لیے وہ سفارت کاری کے ذریعے، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ہمیں ڈونباس سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
صدر زیلنسکی کا بیان
صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا، ’’روس نے ٹیلیگرام کو کیوں بند کیا؟ میرا خیال ہے کہ ایسا ناپسندیدہ فیصلوں کو آگے بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ شاید اس طرح جنگ کسی نہ کسی طریقے سے ختم ہو جائے، یا اس کے برعکس اسے مزید بڑھایا جائے۔ اس کا مطلب ہوگا کہ ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ سے لوگوں کو محاذ پر بھیجا جائے گا اور لاشیں انہی شہروں میں واپس آئیں گی۔ دوسرے الفاظ میں، وہ اب ان بڑے شہروں کی عوامی دباؤ سے نہیں بچ سکیں گے، جس سے وہ پہلے بچنے کی کوشش کرتے تھے۔‘‘زیلنسکی نے کہا کہ روس کو اندازہ نہیں کہ اس معاملے پر سماجی سطح پر کیسا ردعمل سامنے آئے گا۔ وہ جنگ کے کسی نہ کسی نتیجے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ اپنی پروپیگنڈا مہم کے ذریعے انہوں نے معاشرے کے ایک انتہا پسند طبقے کو بھڑکا دیا ہے، جو کافی بڑا ہے — تقریباً 20 سے 25 فیصد۔ یہ لوگ جنگ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جبکہ معاشرے کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو لڑائی بڑھنے پر منفی ردعمل دے گا۔روس کی جانب سے حملے تیز کرنے اور جنگ بڑھانے کے امکان پر انہوں نے کہا، ’’اگر روس جنگ کو بڑھانے کا راستہ اختیار کرتا ہے تو میرا خیال ہے کہ ایک سہ فریقی ملاقات ہوگی۔ وہ اسے اپریل، مئی یا جون میں منعقد کرنے کی کوشش کریں گے۔ میرے خیال میں یہ مہینے ان کے لیے اہم ہیں۔ اور میرا ماننا ہے کہ ستمبر تک ہمارے لیے حالات بہت مشکل ہو سکتے ہیں۔ میرے مطابق امریکی اس مذاکرات کے لیے مزید وقت نہیں دیں گے۔‘‘
یوکرین کو نیٹو کی رکنیت ملنے کے حوالے سے زیلنسکی نے کیا کہا؟
یوکرین کو نیٹو کی رکنیت ملنے کے حوالے سے زیلنسکی نے کہا کہ جب یوکرین نے جوہری ہتھیار چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی تو اس کے بدلے میں ملنے والی ضمانت مناسب ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کی رکنیت یوکرین کے لیے جوہری ہتھیاروں کے بدلے میں ملنے والی سب سے چھوٹی چیز تھی۔ ’’ہمیں کیا ملا؟ کچھ بھی نہیں۔ یہ درست فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک بڑی غلطی تھی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
