Urdu Conclave 2026

Nigeria Attack: نائجیریا میں مسلح شدت پسند گروہ کی اندھا دھند فائرنگ 200 افراد ہلاک

ریڈ کراس کے مطابق جن علاقوں میں یہ حملے ہوئے وہ انتہائی دور دراز اور پسماندہ ہیں۔ یہ دیہات ریاستی دارالحکومت سے تقریباً آٹھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہیں اور بینن کی سرحد کے قریب پڑتے ہیں۔ علاقے میں سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی حالت نہایت خراب ہے،

نائجیریا کے مغربی حصے میں ایک نہایت دردناک اور لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں داعش سے منسلک ایک مسلح شدت پسند گروہ نے دو دیہات پر حملہ کر کے کم از کم 200 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ حملہ حالیہ مہینوں میں نائجیریا میں ہونے والے سب سے مہلک اور خونی حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ وحشیانہ حملہ کوارا ریاست میں منگل 3 فروری 2026 کی شام کو پیش آیا۔ حملہ آوروں نے ورو اور نوکو نامی دو دیہات کو نشانہ بنایا، جہاں وہ اچانک داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ دیہات میں موجود مرد، خواتین اور بچے اس حملے کا نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جانیں ضائع ہو گئیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقامی رکنِ پارلیمنٹ محمد عمر بایو نے بتایا کہ اس قتلِ عام کے پیچھے ’’لکوراوا‘‘ نامی ایک مسلح گروہ کا ہاتھ ہے، جسے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) سے وابستہ بتایا جا رہا ہے۔

ریڈ کراس کے مطابق جن علاقوں میں یہ حملے ہوئے وہ انتہائی دور دراز اور پسماندہ ہیں۔ یہ دیہات ریاستی دارالحکومت سے تقریباً آٹھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہیں اور بینن کی سرحد کے قریب پڑتے ہیں۔ علاقے میں سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی حالت نہایت خراب ہے، جس کے باعث امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ناقص رابطہ نظام کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک درست اطلاعات بھی سامنے نہیں آ سکیں۔ اس خوف ناک حملے پر کوارا ریاست کے گورنر عبد الرحمن عبد الرزاق نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے بزدلانہ اور انسانیت سوز کارروائی قرار دیا۔ گورنر کے مطابق یہ حملہ ریاست میں جاری فوجی کارروائیوں کا ردعمل ہو سکتا ہے، کیونکہ سکیورٹی فورسز شدت پسند گروہوں کے خلاف مسلسل آپریشن کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ نائجیریا اس وقت شدید سکیورٹی بحران سے گزر رہا ہے۔ ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں برسوں سے شورش جاری ہے، جب کہ شمال مغربی اور وسطی خطوں میں اغوا برائے تاوان، مسلح ڈکیتی اور تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی بدامنی کا سب سے بڑا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جو آئے دن ایسے خونریز حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read