اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان دنوں ان کی کئی جعلی تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔ یہ تصاویر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہیں اور کچھ لوگ انہیں اصلی بتا کر پھیلا رہے ہیں۔ میلونی نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ بنانے والوں نے انہیں تھوڑا بہتر دکھا دیا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جھوٹ پھیلانے کے لیے کسی بھی طریقے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
ڈیپ فیک کو خطرناک ہتھیار قرار دیا
میلونی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ان تک محدود نہیں ہے۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ کسی کو بھی گمراہ کر سکتی ہے اور کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود تو اس کا مقابلہ کر سکتی ہیں، لیکن ہر شخص ایسا نہیں کر سکتا۔
عوام کو مشورہ
اٹلی کی وزیر اعظم نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایک اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے—کسی بھی چیز پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں اور شیئر کرنے سے پہلے اچھی طرح جانچ لیں۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ ان کے ساتھ ہوا ہے، کل کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
پہلے بھی ڈیپ فیک کا نشانہ بن چکی ہیں
سال 2024 میں بھی وہ ایک ڈیپ فیک ویڈیو کا شکار ہو چکی ہیں۔ اس معاملے میں ایک باپ اور بیٹے پر الزام لگا تھا، جن کی عمریں بالترتیب 73 اور 40 سال بتائی گئی تھیں۔ دونوں نے مل کر ایک فحش ویڈیو تیار کر کے آن لائن پوسٹ کی تھی، جس کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔
متنازع ویڈیو پر سخت ردعمل
جارجیا میلونی نے ڈیپ فیک کے ذریعے بنائے گئے نازیبا ویڈیو پر سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے ملزمان کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ درج کروایا اور ایک لاکھ یورو (تقریباً 90 لاکھ روپے) ہرجانے کا مطالبہ کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، دو افراد نے ایک بالغ فلم اداکارہ پر میلونی کا چہرہ لگا کر ویڈیو تیار کیا اور اسے ایک امریکی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


