نیپال مسلسل قدرتی آفات سے دوچار ہے۔ چین میں آنے والے زلزلے کے بعد اب ایک اور شدید سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس انتباہ کے بعد نیپال کے دھادِنگ اور نواکوٹ اضلاع میں جاری ریسکیو آپریشن روک دیے گئے ہیں۔ تبت میں بھی امدادی کارروائیاں فی الحال معطل کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعظم بالین شاہ نے پورے ملک کو الرٹ موڈ پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔
چین میں زلزلہ اور جھیل ٹوٹنے کا خطرہ
جمعہ کی صبح تقریباً ساڑھے 11 بجے چین کے صوبہ سیچوان میں 5.1 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد چین نے نیپال کو الرٹ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں شُوؤکین اور پوئیک تسانگپو ندیوں کے سنگم پر بنی ایک بڑی جھیل کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے نیپال میں سیلاب کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔
پی ایم شاہ کی ہدایت
نیپال کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم شاہ نے فوری طور پر پورے ملک کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں کو سرچ آپریشن روکنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ رسووا ضلع انتظامیہ نے دریاؤں کے کنارے رہنے والے لوگوں کو خصوصی احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
چین میں سیکڑوں افراد لاپتہ
چین میں بھی صورت حال سنگین ہے۔ وہاں تقریباً 600 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جن میں 100 سے زیادہ چینی شہری اور باقی غیر ملکی سیاح شامل ہیں۔ تبت کی گیئرونگ کاؤنٹی میں تین افراد کی موت اور 558 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ چین نے بتایا ہے کہ نیپال کی جانب بھی تقریباً 100 چینی شہری لاپتہ ہیں۔
جھیل میں مسلسل بڑھ رہا ہے پانی
چین کی وزارت آبی وسائل نے بتایا کہ چھوچھین کھولا اور پورےپو تسانگپو ندیوں کے قریب بنی بیریئر جھیل میں جمعرات کی صبح تک تقریباً 20 لاکھ مکعب میٹر پانی جمع ہو چکا تھا۔ جھیل پہلے ہی اوور فلو ہو رہی ہے اور آئندہ تین دنوں میں اس میں مزید 30 لاکھ مکعب میٹر پانی آنے کا امکان ہے۔ اس سے جھیل کے ٹوٹنے کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ وزارت نے بتایا کہ جھیل پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ممکنہ آفت سے نمٹنے کے لیے سیلاب کی صورتحال کا سمیولیشن اور خطرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

