نائجیریا کی مسجد میں دھماکہ۔
بورنو: نائجیریا کے شمال مشرقی شہر مائدوگوری میں ایک مسجد میں شام کی نماز کے دوران زوردار دھماکہ ہوا۔ یہ شہر ریاست بورنو کا دارالحکومت ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم دس نمازی جاں بحق ہو گئے۔ یہ واقعہ بدھ کی شام پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں ایک بار پھر تشدد بڑھنے کے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔ یہ خطہ گزشتہ کئی برسوں سے تشدد کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ابھی تک کسی بھی مسلح گروہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
پہلے بھی شدت پسندوں نے مساجد کو بنایا نشانہ
ملیشیا کے لیڈر باباکورا کولو نے بم دھماکے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس سے قبل بھی مائدوگوری میں شدت پسندوں نے مساجد اور گنجان آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا ہے، جہاں خودکش حملہ آوروں اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) کا استعمال کیا گیا تھا۔
گیمبورو کے ایک بھری مسجد کے اندر ہوا دھماکہ
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ گیمبورو مارکیٹ کے علاقے میں واقع ایک گنجان مسجد کے اندر ہوا، جہاں لوگ شام کی نماز کے لیے جمع تھے۔ اچانک ہونے والے دھماکے سے افراتفری مچ گئی، ملبہ اور دھواں پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔
مسجد کے اندر رکھا گیا تھا دھماکہ خیز مواد
کولو نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد مسجد کے اندر رکھا گیا تھا، جسے نماز کے دوران دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ حالانکہ، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر کسی خودکش حملہ آور نے کیا ہو، لیکن حکام نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
طویل عرصے سے بوکو حرام کا مرکز رہا ہے بورنو
بورنو طویل عرصے سے بوکو حرام اور اس سے وابستہ اسلامی اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پروونس جیسے گروہوں کی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔ اگرچہ پورے خطے میں تشدد جاری رہا ہے، لیکن شہر میں حالیہ برسوں میں کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا تھا، جس کے باعث یہ واقعہ عوام اور سیکورٹی اداروں کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔
بوکو حرام نے سال 2009 میں ریاست بورنو سے اپنی بغاوت کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد اسلامی طرزِ حکومت قائم کرنا بتایا جاتا ہے۔ نائجیریا کی فوج اور پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر مسلسل کارروائیوں کے باوجود شمال مشرقی نائجیریا میں چھوٹے پیمانے پر حملے اب بھی عام شہریوں کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق، 2009 سے جاری اس تشدد میں اب تک کم از کم 40 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ تقریباً 20 لاکھ لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔ اس تنازعے کے انسانی اثرات نہایت گہرے رہے ہیں اور بار بار ہونے والے تشدد نے کئی برادریوں کو تباہ کر دیا ہے۔
اگرچہ گزشتہ دہائی کے مقابلے میں حملوں میں کمی آئی ہے، لیکن تشدد نائجیریا کی سرحدوں سے باہر ہمسایہ ممالک نائجر، چاڈ اور کیمرون تک پھیل چکا ہے، جس سے پورے خطے کے سیکورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک بار پھر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شمال مشرقی نائجیریا کے بعض حصوں میں تشدد دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
