Bharat Express DD Free Dish

Elon Musk slams Trump’s spending bill: میں اب مزید برداشت نہیں کرسکتا، ایلون مسک کا ٹرمپ کے ٹیکس بل پر پھوٹا غصہ،حکومت پر کیا سیدھا حملہ

مسک سمیت ناقدین کا خیال ہے کہ اس بل کا مالی بوجھ طویل مدتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ مسک نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ غیر ذمہ دارانہ اخراجات اور ٹیکس پالیسیاں آنے والی نسلوں پر بوجھ ڈال سکتی ہیں۔

ایلون مسک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ “بڑے خوبصورت ٹیکس اور اخراجات بل” پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ “میں اب اسے برداشت نہیں کر سکتا۔” دنیا کے سب سے امیر شخص اور ٹیسلا کے سی ای او نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جہاں انہوں نے اس بل کی شدید تنقید کی جسے ٹرمپ نے حال ہی میں امریکی معیشت کو فروغ دینے کے لیے تجویز کیا ہے۔ مسک، جو اکثر سیاسی اور معاشی معاملات پر اپنی رائے دیتے ہیں، نے اس مجوزہ قانون کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔

اپنے ایکس پوسٹ میں، مسک نے لکھا، “یہ بڑا خوبصورت ٹیکس اور اخراجات بل سراسر پاگل پن ہے، اور میں اسے مزید برداشت نہیں کر سکتا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے امریکی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر جب ملک پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے قومی قرض سے نبردآزما ہے۔ مسک نے خبردار کیا کہ بڑے پیمانے پر اخراجات اور ٹیکس میں تبدیلیاں غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتی ہیں، جو کاروباری اداروں اور عام امریکیوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے اس بل کو معاشی ترقی کے لیے ایک “گیم چینجر” قرار دیا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، کاروبار کو فروغ دے گا، اور امریکی شہریوں کے لیے ٹیکس میں ریلیف لائے گا۔ تاہم، مسک سمیت ناقدین کا خیال ہے کہ اس بل کا مالی بوجھ طویل مدتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ مسک نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ غیر ذمہ دارانہ اخراجات اور ٹیکس پالیسیاں آنے والی نسلوں پر بوجھ ڈال سکتی ہیں۔

یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ سیاسی اور معاشی طور پر منقسم ہے، اور 2025 کے وسط میں مجوزہ پالیسیوں پر بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔ مسک کے تبصرے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں کچھ لوگ ان کی رائے کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ دوسرے ٹرمپ کے منصوبے کے حق میں ہیں۔ فی الحال، اس بل کا مستقبل غیر یقینی ہے، کیونکہ اسے کانگریس سے منظوری لینا باقی ہے، اور مسک جیسے بااثر افراد کی تنقید اس عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read