Bharat Express DD Free Dish

East Asia Summit : ایس جے شنکر کا دو ٹوک بیان، کہا- ”دہشت گردی کے خلاف دفاعی حق سے کوئی سمجھوتہ نہیں، بھارت غزہ امن منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہے“

بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں منعقدہ 20ویں ایسٹ ایشیا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف اپنی دفاعی پالیسی سے کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت غزہ کے لیے پیش کردہ امن منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہے۔

کوالالمپور: بھارتی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے پیر کے روز ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں منعقدہ 20ویں ایسٹ ایشیا سمٹ (ای اے ایس) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف اپنی دفا پالیسی سے کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت غزہ کے لیے پیش کردہ امن منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہے اور یوکرین میں جاری جنگ کے جلد خاتمے کی خواہش رکھتا ہے۔

ڈاکٹر جے شنکر نے اپنے خطاب کا آغاز وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے 20ویں ایسٹ ایشیا سمٹ کی سالگرہ پر نیک تمناؤں کے اظہار سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس موقع پر خصوصی طور پر ”تیمور-لیستے“ کا فورم میں خیر مقدم کرتا ہے۔ انہوں نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم اس وقت مل رہے ہیں جب دنیا ایک نہایت پیچیدہ دور سے گزر رہی ہے“۔

انہوں نے کہا کہ آج عالمی سطح پر سپلائی چین کی بھروسے مندی، مارکیٹوں تک رسائی اور تکنیکی ترقی کے شعبے میں شدید مسابقت دیکھی جا رہی ہے۔ قدرتی وسائل کی تلاش مزید سخت مقابلے میں بدل چکی ہے جبکہ توانائی کی تجارت مسلسل محدود ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں بگاڑ پیدا ہو رہے ہیں۔ جے شنکر کے مطابق، ”یہ تمام تبدیلیاں ناگزیر ہیں اور دنیا کو نئی حقیقتوں کے مطابق اپنے رویے، پالیسیاں اور مفاہمتوں میں تبدیلی لانی ہوگی“۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو اب ٹیکنالوجی، مسابقت، مارکیٹ کے حجم، ڈیجیٹلائزیشن، رابطے، انسانی صلاحیتوں اور نقل و حرکت جیسے حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ”کثیرالقطبیت نہ صرف حقیقت ہے بلکہ یہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس پر عالمی سطح پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے“۔

غزہ امن منصوبے کی حمایت
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دنیا بھر میں مختلف خطوں میں ایسے تنازعات جاری ہیں جن کے قریبی اور دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان تنازعات نے نہ صرف انسانی المیہ پیدا کیا ہے بلکہ غذائی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، توانائی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالی ہے اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کیا ہے۔ “بھارت اس پس منظر میں غزہ امن منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ خطے میں جلد امن بحال ہوگا۔ ہم یوکرین میں جاری جنگ کے فوری خاتمے کے خواہاں ہیں تاکہ عالمی معیشت اور انسانیت کو سکون میسر آئے۔”

دہشت گردی پر زیرو ٹالرنس
جے شنکر نے دہشت گردی کو دنیا کے لیے ”ایک مسلسل اور تباہ کن خطرہ “ قرار دیا اور کہا کہ دنیا کو اس کے خلاف صفر رواداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ”اس میں کسی قسم کے سمجھوتے یا تذبذب کی کوئی گنجائش نہیں۔ بھارت دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاعی حق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا“۔

خطے میں تعاون اور ترقی
وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ بھارت مشرقی ایشیا سمٹ کی سرگرمیوں اور اس کے مستقبل کے ایجنڈے کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ بھارت نے حال ہی میں ”توانائی کی مؤثر پالیسیوں“ پر ایسٹ ایشیا سمٹ (ای اے ایس) نالج ایکسچینج ورکشاپ اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، آسیان کے ”ہند-بحرالکاہل وژن“ اور 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن آن لا آف دی سی کے اصولوں کے مطابق سمندری تعاون کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ”سال 2026 کو آسیان-بھارت میرین کوآپریشن ایئر کے طور پر منایا جائے گا، اور ہم گجرات کے قدیم بندرگاہ لوٹھل میں ایک ایسٹ ایشیا سمٹ میرین ہیریٹیج فیسٹیول منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں“۔ جے شنکر نے مزید کہا کہ بھارت ساتویں ایسٹ ایشیا سمٹ (ای اے ایس) میرین سیکیورٹی کانفرنس کی میزبانی کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”مارچ میں میانمار میں آنے والے زلزلے کے دوران بھارت پہلا ملک تھا جس نے مدد فراہم کی“۔

انفراسٹرکچر اور سائبر تحفظ
انہوں نے بتایا کہ بھارت، میانمار اور تھائی لینڈ کے درمیان جاری سہ فریقی شاہراہ منصوبے میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔ ”یہ خطے کی ترقی اور رابطے کے لیے ایک اہم قدم ہے“۔ ساتھ ہی انہوں نے خطے میں بڑھتے ہوئے ”سائبر فراڈ سینٹرز“ پر تشویش کا اظہار کیا جنہوں نے بھارتی شہریوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ آخر میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بھارت، ایسٹ ایشیا سمٹ کے ذریعے امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کو اہمیت دیتا ہے۔ ”ہمیں امید ہے کہ اس اجلاس سے مثبت اور دیرپا نتائج حاصل ہوں گے، جو خطے میں استحکام اور تعاون کو مزید مضبوط کریں گے“۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read