Bharat Express DD Free Dish

Why Did Stock Markets Tremble From India to Japan: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک دھمکی سے عالمی شیئر بازار میں بھونچال! بھارت سے لے کر جاپان تک اسٹاک مارکیٹ کیوں کانپ اٹھیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی کے بعد خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس کے باعث عالمی بازاروں میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی۔ بھارت میں سینسیکس اور نفٹی میں تیزی سے گراوٹ آئی اور چند ہی سیکنڈ میں سرمایہ کاروں کے تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے۔

7 اپریل 2026 کی صبح دنیا بھر کے شیئر بازاروں کے لیے کسی برے خواب سے کم نہیں رہی۔ دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی تباہ کن دھمکی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس بیان کے آتے ہی بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت راکٹ کی طرح بڑھ کر 112 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ تیل کی اس تیزی نے نہ صرف دلال اسٹریٹ میں ہلچل مچا دی بلکہ ٹوکیو سے لے کر ہانگ کانگ تک کے بازار سرخ نشان میں چلے گئے۔ سرمایہ کاروں میں یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ اگر ٹرمپ کی دھمکی حقیقت میں بدل گئی تو عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

بھارتی بازار میں ہاہاکار

بھارتی شیئر بازار میں منگل کی صبح ’بلیک ٹیوزڈے‘ جیسی صورتحال رہی۔ سینسیکس اور نفٹی تقریباً ایک فیصد کی بھاری گراوٹ کے ساتھ کھلے، جس سے چند ہی سیکنڈ میں سرمایہ کاروں کے تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے۔ ابتدائی کاروبار میں سینسیکس 1.05 فیصد گر کر 73,326 پر آ گیا جبکہ نفٹی بھی پھسل کر 22,771 کی سطح پر پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں (FII) کی مسلسل فروخت اور تیل کی بڑھتی قیمتوں نے بھارت جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کی تشویش بڑھا دی ہے۔ مڈ کیپ اور اسمال کیپ شیئرز میں بھی زبردست فروخت دیکھی گئی جس سے چھوٹے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

نکئی اور ہینگ سینگ پر بھی اثر

ٹرمپ-ایران کشیدگی کا سب سے برا اثر ایشیائی بازاروں پر پڑا۔ نکئی 225 53,366 کی سطح تک گر گیا کیونکہ جاپان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے تیل کی بڑھتی قیمتیں بڑا جھٹکا ہیں۔ اسی طرح ہینگ سینگ 0.70 فیصد گر کر 25,117 پر آ گیا۔ ماہرین کے مطابق ایشیائی بازاروں میں یہ گراوٹ ایک ’چین ری ایکشن‘  کا حصہ ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔

چین سے امریکہ تک صورتحال

عالمی افرا تفری کے درمیان چین کے شنگھائی کمپوزٹ نے حیران کن طور پر 0.03 فیصد کی معمولی تیزی دکھائی اور خود کو مستحکم رکھا۔ گھریلو محرک پیکج اور توانائی کی بہتر حکمت عملی کے باعث چین نے امریکی دباؤ کے باوجود لچک کا مظاہرہ کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read